حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 366
حقائق الفرقان ۳۶۶ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ ہے۔ دوسرے موقع پر فرما دیا۔ وَ إِنْ جَاهَدُكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعُهما (لقمان: ۱۶) گو یا اطاعت والدین کی حد بتا دی ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۵۰) ۱۸٫ ۲۷۔ وَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا - ترجمہ ۔ اور ہر ایک قرابت دار کو اس کا حق دینا اور بے سامان اور مسافر کو مگر فضول خرچیوں میں نہ اڑانا۔ تفسیر او مخاطب ! ہر ایک رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو جو کچھ اس کا حق ہے دے دے۔ اور اپنی نفسانی خواہشوں پر فخر پر اور بڑائی کے لئے اور بے ایمانی کے کاموں میں اموال کو ضائع مت کر ۔ ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹر ائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۱۹) وَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّہ ۔ اپنے اقرباء سے شکایتیں بوجہ زیادہ معاملہ پڑنے کے پیدا ہو جاتی ہیں ان کو خلوص سے دینا مشکل ہو جاتا ہے اس لئے اس کی تاکید فرمائی ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۵۰) ۲۸ - إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيْطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِرَبِّهِ كَفُورًا - ترجمہ ۔ بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی نا قدرا ہے۔ تفسير - إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ ۔ انسان خیال کرے کہ ایک کھانا جو وہ کھاتا ہے اس کے اجزاء کہاں کہاں سے آئے اور کس مشکل اور کن مختلف تبدیلیوں کے بعد ان کا ایک لقمہ اس کے منہ تک پہنچا۔ یہ سب سامان و النكُم مِّنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (ابراهیم : (۳۵) کے ماتحت حضرت حق سبحانہ نے پہلے سے عطا فرمائے مگر لوگوں نے اس میں تبذیر کی تو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے دینے میں کسی سے بخل نہیں کیا۔ بلکہ اس کے غلط استعمال نے تنگی پیدا کر دی۔ ا اور اگر تجھ کو محنت میں ڈالیں تیرے ماں باپ اس بات میں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم کہ نہیں تو تو ان کا کہا نہ ماننا۔