حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 364
حقائق الفرقان ۳۶۴ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ ساتھ نیک سلوک کرو ۔ اور اگر پہنچ جائیں بڑھاپے کو تیرے سامنے دونوں میں سے کوئی یا دنوں تو اُن کو ہوں بھی نہ کہنا اور نہ جھڑ کنا اور ان سے تعظیم و آداب کی بات کرنا ۔ تفسیر او مخاطب ! تیرے مربی اور محسن پالنے والے والی کا حکم تو یہ ہے۔ کہ اس کے سواک کسی کی پرستش اور فرماں برداری نہ کی جاوے اور ماں باپ سے پورا نیک سلوک ہو۔ اگر او مخاطب ! تیرے جیتے ہوئے والدین بوڑھے ہو جاویں۔ ایک یا دونوں ۔ تو خبر دار کبھی ان سے کسی قسم کی کراہت نہ کر بیٹھیو اور نہ کبھی ان کو جھڑ کیو اور ان سے پیاری میٹھی نرم ادب کی باتیں کیا کرنا۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۱۹) وَقَضَى رَبُّكَ ۔ اس کے معنے ہیں کہ حکم شرعی کیا ہے تیرے رب نے ۔ الَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللهُ یہی ایک مسئلہ ہے ۔ جس کے لئے انبیاء دنیا میں آئے۔ میں جب اذان سنتا ہوں تو مجھے یقین پڑتا ہے کہ اسلام کی یہی جامع تعلیم ہے۔ مگر افسوس کہ جس چیز کا رواج پڑ جاتا ہے۔ اس کی قدر بہت کم رہ جاتی ہے۔ اسی طرح لا إلهَ إِلَّا الله ۔ اور کلمہ شہادت ان کے معانی پر غور و تدبر کرنا ضروری ہے۔ مگر مسلمان بہت کم توجہ رکھتے ہیں ۔ صوفیاء کرام نے اس کلمہ پر بہت زور دیا ہے اور اس کی تعلیم تفہیم میں بہت کوشش کی ہے اس پر کتا بیں بھی لکھی ہیں۔ وَ بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۔ ماں باپ ایک تربیت کے متعلق ہی جس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں اگر اس پرغور کی جائے تو بچے ان کے پیر دھو دھو کر پیئیں میں نے چودہ بچوں کا بلا واسطہ باپ بن کر دیکھا ہے کہ بچوں کی ذراسی تکلیف سے والدین کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ ان کے احسانات کے شکریے میں ان کے حق میں دعا کرو۔ میں اپنے والدین کے لئے دعا کرنے سے کبھی نہیں تھکا۔ کوئی ایسا جنازہ نہیں پڑھا ہوگا جس میں ان کے لئے دعا نہ کی ہو ۔ جس قدر بچہ نیک بنے ماں باپ کو راحت پہنچتی ہے اور وہ اسی دنیا میں بہشتی زندگی بسر کرتے ہیں۔ فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أَن ۔ اس قدر ان کی مدارات رکھو کہ اف کا لفظ بھی منہ سے نہ نکلے چہ جائیکہ