حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 27
حقائق الفرقان ۲۷ سُورَةُ الْأَنْفَال ٦١ - وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِنْ قُوَّةٍ وَ مِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُةَ اللهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمْ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ - ترجمہ ۔ اور (ہاں) تیار کرو ہر قسم کی قوت اور گھوڑوں کا سرحد پر باندھنا ان کے لئے اس سے تمہارا مقصد اللہ اور تمہارے دشمنوں پر رعب ڈالنا ہو اور ان کے سوائے دوسروں پر جن کو تم نہیں جانتے ہاں اللہ ان کو جانتا ہے اور تم ہر ایک قسم سے جو کچھ خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں وہ تم کو پورا ملے گا اور تم پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا۔ تفسیر وَاعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ ۔ اب بھی مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے مخالف کے مقابل دلائل و براہین کے ہتھیاروں سے مسلح رہیں۔ دشمن کے مقابلہ کے لئے چار چیزوں کی ضرورت ہے۔ا۔ دل یقین سے لبریز ہو ، ایمان پکا ہو ، متزلزل نہ ہو ۔ ۲۔ دشمن کے حالات اور اس کی گھاتوں کی خبر ہو۔ ۳۔ دلائل مضبوط قول موجہ جانتا ہو ۔ ۴۔ اللہ پر بھروسہ اور اس سے دعا اور اسی کے لئے مباحثہ ہو۔ جس میں یہ باتیں نہ ہوں ۔ وہ ایسے لوگوں کو مدد دیں۔ غرض دو قسم کے لوگ ہوئے ایک وہ جو مقابلہ کر سکتے ہیں۔ دوم وہ جو مالی مدد دے سکتے ہیں ۔ ان کو ارشاد فرماتا ہے وَ مَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمُ - (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱۳) ٦٢ - وَ إِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - ترجمہ ۔ اور اگر کوئی جھکے صلح کے لئے تو اس سے صلح کرنا چاہیے اور اللہ ہی پر توکل کرو۔ بے شک وہ بڑا دعاؤں کا سننے والا بڑا بھیدوں کا جاننے والا ہے۔ تفسیر - وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا ۔ اور اگر دشمن صلح کرنے پر مائل ہوں۔ تو تو بھی صلح کی طرف جھک جا۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ (۲۳)