حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 357 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 357

حقائق الفرقان ۳۵۷ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ میں ہی خشوع و خضوع سے دعائیں مانگیں تو ان کو الہام ہوا کہ وہ نسل جس نے گناہ کیا تھا وہ تو ہلاک ہو چکی ۔ اب ہم ان کی خبر گیری کرتے ہیں ۔ اللہ کے کام دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو ایسے کہ ان میں انسان کو مطلق دخل نہیں ۔ مثلاً اب سردی ہے اور آفتاب ہم سے دور چلا گیا ہے۔ پھر گرمی ہو جائے گی اور آفتاب قریب آ جائے گا۔ یہ کام اپنے ہی بندوں کی معرفت کرایا اور ان لوگوں کو سمجھایا کہ یہ بادشاہ اب ہلاک ہونے والا ہے۔ پس تم مید و فارس کے بادشاہوں سے تعلق پیدا کرو کیونکہ عنقریب یہ دکھ دینے والی قوم اور ان کی سلطنت ہلاک ہو جائے گی پس اللہ نے دوفرشتے ہاروت ماروت نازل کئے ۔ ہرت کہتے ہیں زمین کو مصفی کرنے کو اور مرت زمین کو بالکل چٹیل میدان بنادینا ۔ گویا یہ امران فرشتوں کے فرض میں داخل تھا کہ یہ لوگ برباد ہو جا ئیں اور بنی اسرائیل نجات پاکے اپنے ملک میں جائیں۔ پس وہ ہاروت ماروت نبیوں کی معرفت ایسی باتیں سکھاتے تھے اور ساتھ ہی یہ ہدایت کرتے تھے کہ ان تجاویز کو یہاں تک مخفی رکھو کہ اپنی بیبیوں کو بھی نہ بتاؤ کیونکہ عورتیں کمزور مزاج کی ہوتی ہیں اور ممکن بلکہ اغلب ہے کہ وہ کسی دوسرے سے کہہ دیں ۔ پس اس تعلیم کو پوشیدہ رکھنے کے لحاظ سے میاں بی بی میں بھی افتراق ہوجاتا تھا۔ یعنی میاں اپنی بی بی کو اس راز سے مطلع نہ کرتا تھا اور پھر یہ بات جب پختہ ہو گئی تو مید و فارس کے ذریعہ بابل تباہ ہو گیا۔ اور خدا نے بنی اسرائیل کو بچالیا۔ مگر جتنا ضر ر دشمنوں کو پہنچایا گیا۔ چونکہ اللہ کے اذن سے تھا۔ اسی واسطے وہ اس میں کامیاب ہو گئے۔ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو مکہ والوں کو بڑا غیظ و غضب پیدا ہوا ۔ بس انہوں نے یہودیوں سے دوستی گانٹھی اور یہودی وہی پرانا نسخہ استعمال کرنے لگے کہ آؤ کسی بادشاہ سے مل کر اس محمدی سلطنت کا استیصال کریں۔ اسی واسطے ایرانیوں سے توسل پیدا کیا۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ ایرانیوں کے گورنر بعض عرب کے مضافات میں بھی تھے۔ انہوں نے اپنے بعض آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنے کے لئے بھی بھجوائے مگر کچھ کامیابی نہ ہوئی۔ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آگے تو تم اسے یہودیو! خدا کے حکم سے ایسے منصوبوں میں