حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 351
حقائق الفرقان ۳۵۱ سُورَة النَّحل نہیں مرے گا جب تک خود اس بدی میں گرفتار نہ ہوئے۔ پھر بتاؤ کہ سوء ظن سے کوئی کیا فائدہ اٹھا سکتا سوچن ہے؟ مت سمجھو کہ نمازیں پڑھتے ہو عجیب عجیب خوا ہیں تم کو آتی ہیں یا تمہیں الہام ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ سوء ظن کا مرض تمہارے ساتھ ہے تو یہ آیات تم پر حجت ہو کر تمہارے ابتلاء کا موجب ہیں اس لئے ہر وقت ڈرتے رہو اور اپنے اندر کا محاسبہ کر کے استغفار اور حفاظت النبی طلب کرو۔ میں پھر کہتا ہوں کہ آیات اللہ جن کے باعث کسی کو رفعت شان کا مرتبہ عطا ہوتا ہے۔ ان پر تمہیں اطلاع نہیں ۔ وہ الگ رتبہ رکھتی ہیں۔ مگر وہ چیزیں جن سے خودرائی ، خود پسندی ، خود غرضی، تحقیر، بدظنی اور خطر ناک بدظنی پیدا ہوتی ہے۔ وہ انسان کو ہلاک کرنے والی ہیں۔ ایک ایسے انسان کا قصہ قرآن میں ہے۔ جس نے آیات اللہ دیکھے مگر اس کی نسبت ارشاد ہوتا ہے۔ وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْتُهُ بِهَا وَلَكِنَّةَ اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: ۱۷۷) اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ - بدگمانیوں سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ ورنہ نہایت ہی خطرناک جھوٹ میں مبتلا ہو کر قرب الہی سے محروم ہو جاؤ گے! یا درکھ حسن ظن والے کو کبھی نقصان نہیں پہنچتا۔ مگر بدظنی کرنے والا ہمیشہ خسارہ میں رہتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲ مورخه ۷ ارجنوری ۱۹۰۲ء صفحه ۱۰) ۱۲۸ - وَاصْبِرُ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ روووور ممَّا يَمْكُرُونَ - ترجمہ ۔ پس تو صبر کر اور تیرا صبر تو اللہ ہی کے لئے ہے ان کے لئے غم نہ کھا اور نہ تنگ ہو ان تدبیروں سے جو وہ کرتے ہیں۔ تفسیر ہر ایک سلیم الفطرت، دنیا کے معاملات کا واقف خوب جانتا ہے کہ بعض لوگ صبر سے کام نہیں لے سکتے اور یہ بھی کہ بعض اوقات چشم پوشی ۔ صبر، درگزر، نقصانِ عظیم کا موجب ہوتی ہے۔ چور، باغی اور راستہ لوٹنے والے کو اگر سزا نہ دی جاوے اور صرف رحم ہی اس پر کیا ے اور اگر ہم چاہتے تو اس کو رفع دیتے اُن نشانیوں سے لیکن وہ زمینی چیزوں ہی کی طرف جھکا۔