حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 344 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 344

حقائق الفرقان ۳۴۴ سُورَة النَّحل کوئی کسی کے ساتھ محبت کرے یا بغض۔ وہ بمنزلہ بینچ کے ہے جو اپنے وقت پر پھل لاتا ہے۔ صاحب زراعت جس قسم کے بیج بوئے ضرور اس کے مطابق کاٹتا ہے۔ اس میں مکہ والوں کو سمجھایا کہ تم کب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور آپ کے اتباع کو دکھ دو گے۔ ایک وقت اس کا خمیازہ اٹھانا پڑے گا نبیوں کی ذات بڑی رحیم ہوتی ہے مگر نعوذ با اللهِ مِنْ غَضَبِ الْحَلِيمِ نبی پر ایک وقت آتا ہے کہ وہ بول اٹھتا ہے لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا (نوح:۲۷) اور پکارتا ہے وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ (یونس : ۸۹) کہ میں ان کا ایمان بھی اب نہیں دیکھنا چاہتا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۷، ۱۴۸) توفی۔ یہ اور باب ہے اور توفیتی اور باب سے۔ یاد رکھو۔ تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۴۶۳) ١١٣ - وَضَرَبَ اللهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللهِ فَإِذَا قَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ - ترجمہ۔ اور بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ( یعنی فتح مکہ کی پیش گوئی ) کہ ایک بستی تھی امن چین کی اُن کا رزق آتا تھا اُن کے پاس با فراغت ہر ایک جگہ سے پھر اس نے ناشکری کی اللہ کے انعاموں کی (یعنی نبوت و قرآن و توحید کی ) تو اللہ نے اس کو چکھایا بھوک اور خوف کا مزہ ان کے بڑے کرتوتوں کے سبب سے۔ - تفسیر - وَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا قَرْيَةً - خود مکہ ہی سمجھ لوجس میں ہر طرح امن واطمینان تھا۔ چنانچہ عورت جب اپنے خاوند سے سکھ پاتی تو کہتی زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةً لَا فَخَافَةً وَلَا سَامَةَ اے حلیم و برد بار کے غصہ سے ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ ۲۔ نہ چھوڑ خاص زمین پر کافروں کا کوئی گھر بسنے والا۔ سے اور سخت کر دے اُن کے دل کہ وہ تجھ پر ایمان ہی نہ لائیں جب تک نہ دیکھ لیں ٹیس دینے والا عذاب۔