حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 25 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 25

حقائق الفرقان ۲۵ سُورَةُ الْأَنْفَال ۴۹ - وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ إِنِّي جَارُ لَكُمْ فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتْنِ نَكَصَ عَلَى عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِى مِنْكُمْ إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ - ترجمہ۔ اور جب ان کو پسند کرا دیئے شیطان نے ان کے کام اور وہ بولا کہ آج تم پر کوئی بھی غالب نہ ہوگا آدمیوں سے اور میں تمہارا پڑوسی اور حمایتی ہوں پھر جب ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں دونوں فوجیں تو وہ سرک گیا الٹے پاؤں چپکے سے۔ اپنے دل میں کہا یا اپنے دوستوں کو سنایا میں تو تم سے بری اور بیزار ہی ہوں میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ہیں تو اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔ L تفسیر ابلیس اور شیطان کی اصل جن ہے اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ جو چیزا اپنی ذات میں بری اور پر ضر ر ہو وہ تو ابلیس ہے اور جس چیز کا ضر ر متعدی ہو ۔ دوسروں کو بھی دکھ پہنچا تو وہ شیطان ہے چنانچہ پارہ اول رکوع ۴ میں فرماتا ہے فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبِي وَاسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ جب تک اس میں انکار و استکبار تھاوہ ابلیس تھا لیکن جب اس کا ضر ر متعدی ہوا اور فَازَ لَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا اس کی شان ہوئی دوسروں کو بہکانے لگا تو پھر اسے شیطان فرمایا سارے قرآن مجید میں خوب غور کر کے دیکھ لو۔ جہاں جہاں ابلیس آیا ہے وہاں اس کا ضر ر ا پنی ذات میں ہے اور جہاں اس کا ضرر دوسروں تک پہنچا تو نام شیطان ہے۔ احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا لفظ بہت وسیع ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک باز کو کبوتری کے پیچھے جاتا دیکھ کر فرما یا شیطان يَتَّبِعُ شَيْطَانَةً - النِّسَاءُ حَبَائِلُ الشَّيْطَانِ غرض ظلمت کے مظاہر شیاطین ہیں اور نور کے مظاہر ملائکہ۔ تشحید الاذہان جلد ۶ نمبر ۱۱۔ ماہ نومبر ۱۹۱۱ ء صفحہ ۴۳۶) ۵۴ - ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيْرًا نِعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَ أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ - ترجمہ ۔ یہ اس لئے بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی بھی دی ہوئی نعمت میں تغیر نہیں ڈالتا کسی قوم کی لے تو ابلیس کے سوا سب نے حکم مانا۔ (ابلیس نے جو کافر تھا آدم کا انکار کر دیا اور اسے اپنے ۶ سامنے بیچ سمجھا اور وہ حق پوش تھا۔ ۲ پھر شیطان نے ان کو اس درخت کے ذریعہ پھسلانا چاہا۔ سے شیطان (مذکر) شیطان ( مؤنث) کا پیچھا کرتا ہے۔ عورتیں شیطان کا جال ہیں ۔