حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 338 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 338

حقائق الفرقان ۳۳۸ سُورَة النَّحل پیچھے توڑ ڈالا چورا چورا کر کے کہ کرنے لگو اپنی قسموں کو آپس کے جھگڑے کا سبب اس وجہ سے کہ ایک گروہ زیادہ اونچا ہو گیا ہے دوسرے سے۔ اس کے سوا نہیں کہ اللہ تم کو انعام دینا چاہتا ہے تمہاری کمزوری اور ان کی قوت کی وجہ سے۔ اور اللہ ضرور ضرور ظاہر کرے گا انجام کار اور قیامت کے دن ( اس چیز کا فیصلہ ) جس چیز میں تم جھگڑتے تھے۔ تفسیر - دخلا ۔ اس کے معنے ہیں ”دھوکہ“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک وقت مکہ میں تشریف لے گئے۔ اپنی رؤیا لَتَدْخُلُن الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ (الفتح :(۲۸) کے مطابق جب آپ حدیبیہ میں پہنچے تو ان لوگوں نے مزاحمت کی ۔ آخر صلح ہوئی اور کچھ معاہدے ہوئے جس میں سے عرب کے تمام قبیلوں کی فہرستیں بنیں ۔ اور جو مسلمانوں کے طرف دار تھے وہ بھی اور جو مشرکین کے جانب دار تھے وہ بھی لکھے گئے ۔ آپؐ نے حج و عمرہ کی اجازت چاہی تو انہوں نے کہا۔ اس سال نہیں۔ پھر آنا اور ہتھیار بند رہنا ہوگا۔ آپ نے یہ بھی تسلیم کر لیا۔ ایک خزاعہ قوم تھی۔ جنہوں نے اپنا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانبداروں میں لکھا دیا۔ اور وائل نے مشرکین کے طرفداروں میں ۔ آخر ایک وقت وائل نے خزاعہ پر حملہ کر دیا۔ خزاعی قوم نے فوراً ایک آدمی مدینہ طیبہ میں بھیج دیا اور خود بطور پناہ لینے کے مکہ میں آئے۔ اس امید پر کہ ہماری مدد ہو گی ۔ مگر انہوں نے مدد نہ کی۔ بلکہ وائل کی جنبہ داری کی ۔ پھر انہوں نے اپنا ایک آدمی اور مدینہ بھیجا۔ جو چند شعر بنا کر بھی لے گیا۔ جس نے جا کر اپنا تمام حال کہا۔ آپؐ نے اس بد عہدی پر مکہ والوں پر چڑھائی کی ۔ اللہ تعالیٰ اس قصہ کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔ دیکھو انہوں نے خدا کو ضامن بنایا مگر معاہدات کی کچھ پرواہ نہ کی ۔ اور سب ساختہ پرداختہ توڑ ڈالا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ رفروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۶، ۱۴۷) وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا - صلح حدیبیہ کے معاہدے کو مشرکین نے اسی طرح اپنے ہاتھوں سے توڑا ہے جس طرح ایک عورت اپنا کا تا ہوا ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۴۶۳) ضرور تم داخل ہو گے مسجد حرام میں ۔