حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 336 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 336

حقائق الفرقان ۳۳۶ سُورَة النَّحل رنگوں میں میں نے اس کے ساتھ سلوک کیا۔ مجھے بڑے بڑے خیال تھے۔ خدا اسے یہاں پہنچا دے۔ مگر آخر اسے عیسائیوں کا گھر پسند آیا۔ دل جو ہوتے ہیں ان کا نام قلب اسی لئے رکھا ہے کہ بدلتے رہتے ہیں۔ اس واسطے میری عرض ہے کہ تم دعاؤں میں لگے رہو۔ تمہارے بھلے کے لئے کہتا ہوں ۔ ورنہ میں تو تمہارے سلاموں ، تمہارے مجلس میں تعظیم کے لئے اُٹھنے کی خواہش نہیں رکھتا۔ اور نہ یہ خواہش کہ مجھے کچھ دو۔ اگر میں تم سے اس بات کا امیدوار ہوں تو میرے جیسا کا فرکوئی نہیں۔ اس بڑھاپے تک جس نے دیا۔ اور امید سے زیادہ دیا۔ وہ کیا اب چند روز کے لئے مجھے تمہارا محتاج کرے گا؟ سنو! بچے کی شادی تھی۔ میری بیوی نے کہا۔ کچھ جمع ہے تو خیر ۔ ورنہ نام نہ لو۔ میں نے کہا۔ خدا کے گھر میں سبھی کچھ ہے۔ آخر بہت جھگڑنے کے بعد اس نے کہا اچھا پھر میں سامان بناتی ہوں۔ میں نے کہا میں تمہیں بھی خدا نہیں بناتا۔ میرے مولیٰ کی قدرت دیکھو کہ شام تک جس قدر سامان کی ضرورت تھی مہیا ہو گیا۔ یہ میں نے کیوں سنایا۔ تا تمہیں حرص پیدا ہوا اور تم بھی اپنے مولیٰ پر بھروسہ کرو۔ پھر میری بیوی نے کہا۔ عبدالحی کا مکان الگ بنانا ہے تو اس کے لئے بھی خدانے ہی سامان کر دیا۔ ان فضلوں کے لئے عدل کا اقتضاء ہے کہ میں سارا خدا کا ہی ہو جاؤں ۔ قومی بھی اسی کے عزت و آبرو بھی اسی کی ، میری پہلی شادی جہاں ہوئی۔ وہ مفتی ہمارے شہر کے معظم و مکرم تھے۔ ایک دن میری ہمارے شہر کے بیوی کو کسی نے کہا ” چو بارے دی اٹ و ہنی و چہ جانگئیں مگر کہنے والے نے جھوٹ کہا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑے فضل کئے ۔ پھر ہمیں ایسے موقع پر ناطہ دیا کہ تم تعجب کرو۔ جموں کا رئیس بیمار تھا۔ اس نے بہت دوائیں کیں کچھ فائدہ نہ ہوا۔ تو فقراء کی طرف متوجہ ہوا ۔ جب ہند و فقراء سے فائدہ نہ ہوا تو مسلمان فقراء کی طرف توجہ کی۔ اور ان سب فقراء کو بڑا روپیہ دیا۔ ایک میرا دوست جو اس روپے کے خرچ کا آفیسر تھا۔ اس نے ذکر کیا کہ تین لاکھ تو خرچ ہو چکا ہے۔ اب ایک اور فقیر سنا ہے جسے بلانے کے لئے آدمی گیا اور اس کے لئے اتنے ہزار روپے تھے۔ مگر اس کا خط آیا۔ اس میں لکھا تھا میرا کام تو دعا کرنا ہے۔ دعا جیسی لدھیانہ میں ہو سکتی ہے ویسی کشمیر میں ۔ دونوں جگہ کا خدا ایک ہے وہاں آنے کی