حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 332
حقائق الفرقان ۳۳۲ سُورَة النَّحل شاہ عبدالقادر صاحب نے بتایا کہ ہم باہر جوتا اتار کر یہ نیت کر لیتے ہیں کہ جو لے جائے اس کے لئے حلال ۔ چونکہ چور کمبخت کے نصیب میں رزق حلال نہیں ۔ اس لئے اسے اٹھانے کا موقع ہی نہیں ملتا ۔ غرض اكل مال بالباطل نہ کرو اور بیویوں کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آؤ۔ بیوی بچوں کے جنے اور پالنے میں سخت تکلیف اٹھاتی ہے۔ مرد کو اس کا ہزارواں حصہ بھی اس بارے میں تکلیف نہیں ان کے حقوق کی نگہداشت کرو۔ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ (البقرۃ:۲۲۹) ان کے قصوروں سے چشم پوشی کرو اللہ تعالیٰ بہتر سے بہتر بدلہ دے گا۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ بے حیائیوں سے اور ان امور سے جن سے دوسرے کو تکلیف پہنچے اور وہ منع کرے یا شریعت منع کرے اور بغاوت کی راہوں پر چلنے سے منع کرتا ہے۔ وہ سننا کس کام کا جس کے ساتھ عمل نہ ہو۔ سنو ! دل کو اس کے ساتھ حاضر کرو۔ (الحکم جلد ۱۵ نمبر ۲۳، ۲۴ مورخہ ۷، ۱۴ جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ ۳) اپنی آمدنیوں کے مطابق اپنے اخراجات رکھو۔ کیا کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کی اولا د خراب ہو۔ کیا کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی شخص اس کے لڑکے یا لڑکی کو بدی سکھلائے ، خراب کرے، بدکار بنا دے۔ میرے بھی لڑکی ہے۔ اس وقت میں اپنے آپ کو بھی مخاطب کر رہا ہوں ۔ جب کوئی یہ نہیں چاہتا تو پھر دوسروں کی اولاد کو جو تمہارے سپرد ہے کیوں خراب ہونے کا موقع دیتے ہو۔ کیا کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کے ماتحت نافرمان ہوں ۔ جب یہ نہیں چاہتا تو کیوں نافرمانی کرتے ہیں! یہ لڑکے جو اپنے آفیسروں، استادوں کی نافرمانی کرتے ہیں ۔ اور طرح طرح کی بدعتیں کرتے ہیں۔ اگر یہ صاحب اولاد ہوں اور ان کی اولاد بدی، نافرمانی کرے تو ان کو معلوم ہو کہ کس قدر دکھ ہوتا ہے۔ جب کس ہم اپنے ماتحتوں کو اپنا فرماں بردار دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو ہم کو چاہیے کہ جس کے ہم ماتحت اس کے فرماں بردار ہوں ۔ کیا کوئی یہ چاہتا ہے کہ ہمارا مال کوئی شخص دھو کے سے کھا جائے؟ ہم یہ ہرگز پسند نہیں کرتے کہ کوئی ہم کو دھوکہ دے یا ہم کسی کا دھوکہ کھائیں۔ اس لئے ہم کو بھی چاہیے کہ کسی کو دھوکہ نہ دیں۔ جہاں کسی کے دھو کہ کھانے کا موقع ہو۔ وہاں اپنے آپ کو بچائیں ۔ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ ابْتَائِي ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ الْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمُ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ - ے اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا مردوں کا ان پر حق ہے۔