حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 331 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 331

حقائق الفرقان ۳۳۱ سُورَة النَّحل میں کسی تکلیف سے آیا ہوں۔ اللہ جانتا ہے امر بالمعروف کے لئے آیا ہوں ۔ رستہ چلنے کی سکت نہیں پسینہ پسینہ ہو رہا ہوں ۔ صرف تمہاری بھلائی چاہتا ہوں ۔ تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا۔ جس کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہوں۔ وہی بہتر بدلہ دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میری طبیعت تو ایسی بنائی ہے کہ تمہارے اُٹھنے اور سلام کا بھی روادار نہیں ہوں ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے کہ تم متقی بنو۔ (آمین) الحکم جلد ۵ نمبر ۲۱، ۲۲ مورخہ ۷، ۱۴ رجون ۱۹۱۱ء صفحہ ۶) اس وقت بقائمی ہوش و حواس تمہیں چند باتیں کہتا ہوں ۔ جو تم سے مان لے گا۔ اس کا بھلا ہوگا۔ اور جو نہ مانے گا اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ - اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انصاف کرو۔ تم میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو چاہتا ہے یا پسند کرتا ہے کہ مجھے کوئی گالی دے۔ یا میری کوئی ہنگ کرے یا میرے ننگ و ناموس میں فرق ڈالے یا نقصان کرے یا بدی سے پیش آئے یا تحقیر کرے؟ میرا ملازم سستی سے کام لے؟ جب تم نہیں چاہتے تو کیا یہ انصاف ہے کہ تم کسی کا مال ضائع کرو یا کسی کی ملازمت میں سستی کرو یا کسی کو نقصان پہنچاؤ یا کسی کے لڑکے یا لڑکی کو بدنظری سے دیکھو۔ تم عدل سے کام لو۔ اور وہ سلوک کسی سے نہ کرو۔ جو خود اپنے آپ سے نہیں چاہتے ۔ اسی طرح جس سے پانچ دس روپے تنخواہ لیتے ہو اس کی فرماں برداری کرتے ہو۔ پس جس نے آنکھیں دیں جن سے ہم دیکھتے ہیں۔ کان دیئے جن سے ہم سنتے ہیں، زبان دی جس سے ہم بولتے ہیں، ناک دیا، پاؤں ں دیئے جن سے ہم چلتے ہیں۔ عقل فہم ، فراست دی، اتنے بڑے محسن، اتنے بڑے مربی، اتنے بڑے خالق ، رازق کی نافرمانی کریں تو کیا یہ عدل ہے؟ پس میں تمہیں بھی چھوٹا سا فقرہ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ سنانے آیا ہوں۔ اور میں تمہیں دوسری دفعہ تیسری دفعہ چوتھی دفعہ تاکید کرتا ہوں کہ خدا کے معاملہ میں ، اپنے معاملہ میں ، غیروں کے معاملہ میں عدل سے کام لو۔ پھر اس سے ترقی کرو اور مخلوق الہی سے احسان کے ساتھ پیش آؤ۔ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا مطالعہ کر کے اس کی فرماں برداری میں بڑھو ۔ حلال روزی کماؤ ۔ حرام خوری سے نیکی کی توفیق نہیں ملتی ۔ شاہ عبدالقادر صاحب اپنا جوتا مسجد کے باہر اتارا کرتے اور شاہ رفیع الدین اندر لے جاتے پھر بھی ضائع ہو جاتا ۔