حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 329
حقائق الفرقان ۳۲۹ سُورَة النَّحل ہوتے ہیں۔ پس تم اس قسم کے سننے والے نہ بنو۔ بلکہ وعظ کی اس غرض کو ملحوظ رکھو لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے۔آمین۔ الحکم جلدے نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۱۳ ) عدل ایسی ضروری چیز ہے کہ شیعہ نے بھی باوجود اللہ کی تمام صفات سے بے پرواہی کرنے کے اسے ارکان اربعہ ( توحید عدل نبوت ۔ امامت ) میں شمار کیا ہے۔ عدل کیسا اچھا ہے۔ اس کا اندازہ شاید تم لوگ نہ کر سکو۔ کیونکہ تم میں سے کم ہیں جنہوں نے وہ زمانہ دیکھا جب کہ حکام کو بھی ننگ و ناموس کا خیال نہ تھا۔ رعیت کے کسی فرد کو یہ معلوم نہ تھا کہ میں کس چیز کا مستحق ہوں اور بادشاہ کس کا۔ باپ کا بدلہ نہ صرف بیٹوں سے بلکہ ملک والوں سے بھی لیا جاتا تھا۔ مگر اب امن کا راج ہے اور عدل ہو رہا ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ کا شکر چاہیے۔ ہر شخص اپنے نفس پر غور کرے کہ وہ نہیں چاہتا کہ میرے بیٹے یا بیٹی کوکوئی دکھ دے۔ یا ان کے ساتھ بے جا سختی کرے۔ پس وہ آپ بھی کیوں کسی کے بیٹے یا بیٹی کو دکھ دے یا انگل مال بالباطل کرے یا کسی کی حق تلفی کا مرتکب ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرما یالا يُؤْمِنْ أَحَدُ كُمْ حَتَّى يُحِبُّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ کہ مومن ہی نہیں ہوتا جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہیں کرتا جو اپنے لئے کرتا ہے۔ ہم اپنے غلام سے جیسا کام لینا چاہتے ہیں۔ مناسب ہے کہ ہم بھی جس کے نوکر ہیں ویسا ہی کام کریں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے تمام تعلقات میں مخلوق سے ہوں یا خدا سے ، عدل مد نظر رکھو۔ اور میری آرزو ہے کہ میں تم میں سے ایسی جماعت دیکھوں جو اللہ تعالیٰ کی محب ہو۔ اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی متبع ہو۔ قرآن سمجھنے والی ہو۔ میرے مولی نے مجھ پر بلا امتحان اور بغیر میری محنت کے مجھ پر بڑے بڑے فضل کئے ہیں۔ اور بغیر میرے مانگنے کے بھی مجھے عجیب عجیب انعامات دیئے ہیں جن کو میں گن بھی نہیں سکتا۔ وہ ہمیشہ میری ضرورتوں کا آپ ہی کفیل ہوا ہے۔ وہ مجھے کھانا کھلاتا ہے اور آپ ہی کھلاتا ہے۔ وہ مجھے کپڑا پہناتا ہے اور آپ ہی پہناتا ہے۔ وہ مجھے آرام دیتا ہے اور آپ ہی آرام دیتا ہے۔ اس نے مجھے بہت سے مکانات دیے۔ ت سے مکانات دیے۔ بیوی بچے دیئے۔ مخلص اور سچے دوست دیئے ۔ اتنی کتابیں دیں اتنی کتابیں دیں کہ دوسرے کی عقل