حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 320
حقائق الفرقان ۳۲۰ سُورَة النَّحل ۷۸ - وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - ترجمہ۔ اور اللہ ہی کو معلوم ہیں آسمانوں اور زمین کی چھپی باتیں۔ اور انجام کار تو اتنا ہی ہے جتنا پلک مارنا یا اس سے بھی زیادہ جلدی بے شک اللہ ہر ایک شے کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔ تفسیر وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّاتِ وَالْأَرْضِ - اللہ تعالی سمجھاتا ہے کہ مکہ میں تم سب لوگ اکٹھے ہی رہتے تھے۔ ان میں سے ایک کو خاتم الانبیاء سید الاولین والآخرین بنا دیا۔ یہ کس کو معلوم تھا۔ كَلَمْحِ الْبَصَرِ ۔ بڑے بڑے بدکار ایک دم میں نیکو کار ہو جاتے ہیں اور نیک بد۔ امیر فقیر اور غریب امیر ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۳ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۵) ۷۹- وَ اللهُ اَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ - ترجمہ۔۔ اور اللہ نے تم کو پیدا کیا تمہاری ماؤں کے پیٹ سے تم کچھ بھی تو نہیں جانتے تھے اور تمہارے لئے کان بنائے اور آنکھیں اور مرکز قوی دل تا کہ تم شکر گزاری اختیار کرو۔ تفسیر میں تم کو ایک بڑے فکر کی بات سناتا ہوں ۔ انسان کو ایک بڑی لڑائی کے لئے تیار ہونا چاہیے جو ترک معاصی کی لڑائی ہے۔ پہلے پہل جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ خدا شناسی کو کیا جانتا ہے۔ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَتِكُمُ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا (النحل : ۷۹)۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ تمہیں دودھ پینا نہیں آتا تھا۔ بلکہ یہ کہ تم نیکی بدی کی حقیقت سے محض نا آشنا اور نا واقف تھے۔ صرف دودھ پینے کا خیال تھا جو ایک قسم کی خود غرضی تھی جس میں دوسرا شریک نہیں ۔ ننگ دھڑنگ موجود تھے۔ پہلے پہل کھانے پینے کا علم ہوا اور اس سے معرفت بلند نہ تھی۔ یہ بہیمیت تھی۔ اس سے ذرا ترقی ہوئی تو غضب پیدا ہوا۔ ماں نے دودھ دینے میں ذرا دیر کی۔ لگے چلانے اور چیخنے۔ اس کے بعد شہوت آتی ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں اخلاق پہنچاوے تو اخلاق فاضلہ کی راہ پیدا ہووے تو ہووے۔ بحالیکہ دشمن پہلے سے موجود ہے۔ کیسا مقابلہ ہے؟ (الحکم جلد ۱۳ نمبر ۹، ۱۱،۱۰ مورخہ ۷، ۲۱،۱۴ مارچ ۱۹۰۹ء صفحہ ۴۳، ۴۴)