حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 318 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 318

حقائق الفرقان ۳۱۸ سُورَة النَّحل هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ - کیا اس کے برابر یہ ہو سکتا ہے جو امر بالعدل کرتا ہے۔ اور جو کچھ کہتا ہے اپنی عملی حالت سے اس کو دکھاتا ہے کہ وہ صراط مستقیم پر ہے۔ اس وقت جو دنیا میں افراط و تفریط بڑھ گئی ہے۔ دنیا کو اعتدال کی راہ بتانے والا اور اقرب راہ پر چل کر دکھانے والا اور اپنی کامیابی سے اس پر مہر کر دینے والا کہ یہی صراط مستقیم ہے۔ جس پر میں چلتا ہوں۔ اب انسان اگر دانشمند اور سلیم الفطرت ہو تو اس کو صفائی کے ساتھ مسئلہ نبوت کی ضرورت کی حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے۔ میں نے ایک بار اس آیت پر تدبر کیا تو مجھے خیال آیا کہ اگر مولویوں کی طرح کہیں۔ تو کیا عرب گونگے تھے؟ سبعہ معلقہ کو اور امراء القیس کا قصیدہ دیکھو۔ جو بیت اللہ کے دروازہ پر آویزاں کیا گیا تھا۔ زید بن عمر اور اس کے ہم عصر اعلیٰ درجہ کے خطیب موجود تھے۔ ان لوگوں میں جب کبھی اس بات پر منازعت ہوتی تھی بڑے دنگل لگتے تھے۔ جس کی بات کو مکہ کے قریش پسند کرتے وہ جیت جاتا۔ ان کی زبان عرب تھی۔ وہ دوسروں کو عجم کہتے تھے۔ اپنے آپ کو فصاحت میں بے نظیر سمجھتے تھے۔ پھر اس پر کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ آبگم ہے۔ اپنی معشوقہ اور عشیقہ کے خط و خال، بہادری اور شجاعت کے کارنامے چستی و چالا کی ، غرض ہر قسم کے مضمون پر بڑی فصاحت سے گفتگو کر سکتے تھے۔ اورا۔ اپنے تحمل مزاج کے ثبوت دیتے تھے۔ مگر ہاں وہ آبگم تھے تو اس بات میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کے محامد اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا انہیں کچھ علم نہ تھا۔ اور وہ اس کی بابت ایک لفظ بھی منہ سے نہ بول سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے افعال کی بے نظیری کو بیان کرنے کی مقدرت ان میں نہ تھی۔ وہ عرب کہلاتے تھے مگر لا إله إلا الله جیسا اعلیٰ درجہ کا فصیح و بلیغ کلمہ ان میں نہ تھا۔ وحشیوں سے انسان اور انسانوں سے با اخلاق انسان پھر با خدا انسان بننے کے لئے اور ان مراتب کے بیان کرنے کو آہ! ان میں ایک لفظ بھی نہ تھا۔ اخلاق فاضلہ اور رزائل کو وہ بیان نہ کر سکتے تھے۔ شراب کا تو ہزار نام ان میں موجود تھا۔ مگر افسوس اور پھر افسوس اگر کوئی لفظ اور نام نہ تھا تو اللہ تعالیٰ کے اسماء اور توحید کے اظہار کے واسطے۔