حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 315
حقائق الفرقان ۳۱۵ سُورَة النَّحل کے لئے اللہ تعالیٰ اسی آیت میں ایک نہایت ہی عجیب بات سناتا ہے۔ مثل اعلیٰ درجہ کی عجیب بات کو کہتے ہیں ۔ غرض اللہ تعالیٰ ایک عجیب بات اور نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی بات سناتا ہے۔ کوئی کسی کا غلام ہے۔ وہ عبد جو کسی کا مملوک ہے۔ اس کا مالک اس کے لئے بہت سے کام رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کا غلام وہ کام کرے مگر غلام کی یہ حالت ہے کہ لَا يَقْدِرُ، جس کام کو کہا جاتا ہے وہ مضائقہ کرتا ہے اور اپنے قول و فعل ، حرکات و سکنات سے بتاتا ہے کہ آقا! یہ تو نہیں ہو سکتا وہ زبان سے کہے یا اعمال سے دکھا دے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ میں اس کام کے کرنے کے قابل نہیں اب ایک اور غلام ہے جو کام اس کے سپرد کیا جاوے۔ جس خدمت پر اسے مامور کیا جاوے پوری تندہی اور خوش اسلوبی سے اس کو سر انجام دیتا ہے۔ جب اس کو کوئی مال دیا جاوے۔ تو وہ اس کو کیا کرتا ہے؟ اس مال کو لیتا ہے۔ جہاں آقا کا منشاء ہو کہ مخفی طور پر دیا جاوے وہاں مخفی طور پر دیتا ہے اور جہاں مالک کی مرضی ہو کہ ظاہر طور سے دیا جاوے وہاں کھلے طور پر دیتا ہے۔ غرض وہ مالک کی مرضی اور منشاء کا خوب علم رکھتا ہے اور اس کے ہی مطابق عملدرآمد کرتا ہے۔ اور مخفی در مخفی اور ظاہر در ظاہر موقعوں پر ہی جہاں مالک کی مصلحت ہوتی ہے۔ اس مال کو خرچ کرتا ہے۔ اب تم اپنی فطرتوں سے پوچھو کہ یہ دو غلام ہیں ۔ جن میں سے ایک تو ایسا ہے کہ کسی کام کے کرنے کے بھی قابل اور لائق نہیں۔ اور دوسرا ہے کہ اپنے مالک کی مرضی اور مصلحت کا پورا علم رکھتا ہے۔ اور صرف علم ہی نہیں۔ اس پر عمل بھی کرتا۔ اور سرا اور جہراً دونوں قسم کے اخراجات کر سکتا ہے۔ اب یہ کیسی صاف بات ہے۔ اپنی ہی فطرت سے فیصلہ پوچھ لو ۔ هَلْ يَسْتَوْن ؟ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ ہر ایک دانشمند کو اعتراف کرنا پڑے گا۔ کیونکہ وہ فطرت انسانی اعتقادات، اخلاق سب کو جانتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے کامل علم اور فطرت کی صحیح اور کامل واقفیت کی بناء پر فتوی دیتا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ - اللہ تعالیٰ ہی کی حمد دنیا میں قائم ہو گی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہی غلام لائق اور ممتاز ہو سکتا ہے جو ہر قسم کے اخراجات کو بر حل کرنے اور اپنے آقا کے منشاء و مصلحت کو جانتا ہے اور یہی نہیں بلکہ عملی طاقت بھی اعلیٰ درجہ کی رکھتا ہے۔