حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 314 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 314

حقائق الفرقان ۳۱۴ سُورَة النَّحل اسے بھیجو وہ خیریت کے ساتھ نہیں آتا کیا یہ برابر ہو سکتا ہے اس شخص کے جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے۔ تفسیر - ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا ۔ ان مثالوں میں مشرکین عرب کو سمجھایا ہے کہ تم بھی ہو۔ اور ایک طرف حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی جماعت ہے۔ ان میں خدا تعالیٰ کی تعظیم کا کام کون کر رہا ہے اور مخلوق کی بہتری کی فکر کس کو ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جناب رسالت مآب۔خدا نے زبان اور استطاعت دونوں فریق کو دی۔ مگر ایک گروہ ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔ اور دوسرا ہے جو مال و جان نثار کر رہا ہے۔ خدا کے حضور وہی عزت پائے گا جو کام کرنے والا ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتخاب کی وجہ بیان فرمائی ہے کہ وہ اپنے مولی کا کارکن ، جاں نثار، آمر بالعدل، صالح العمل بندہ ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۳ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۵) اس کے ابتدا میں حضرت حق سبحانہ تعالیٰ نے اپنی ہستی ، اپنی توحید، اپنے اسماء، اپنے محامد اور لا انتہا عجائبات قدرت کا اظہار فرمایا ہے اور بعد اس بیان کے جو در حقیقت لا إله إلا الله کے معنوں کا بیان ہے۔ اس کے دوسرے جزء مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ پر بحث کی ہے اور ضرورت نبوت پھر ختم نبوت پر لطیف طرز سے بحث کی ہے اور بیان کیا ہے کہ کیوں خدا کی طرف سے کوئی مامور ہو کر آتا ہے اور اس کا کیا کام ہوتا ہے۔ پھر اس آیت میں بتایا ہے کہ جو شخص مامور من اللہ اور حجۃ اللہ ہو کر آتے ہیں وہ بلحاظ زمانه، بلحاظ مکان ، عین ضرورت کے وقت آتے ہیں۔ اور ان کی شناخت کے لئے وہی نشانات ہیں جو اس آیت میں بیان کئے جاتے ہیں۔ وہ کیا کام کرتے ہیں۔ ان پر کیا اعتراض ہوتے ہیں۔ دوسروں کی نسبت ان میں کیا خصوصیت ہوتی ہے۔ ان دو آیتوں میں انہی باتوں کا تذکرہ ہے۔ ان میں سے پہلی آیت شریف کا ترجمہ یہ ہے مگر ترجمہ سے پیشتر یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے انسان کو ممتاز بنایا ہے اور پھر انسانوں میں سے کچھ لائق اور بعض نالائق ہوتے ہیں ۔ اور اس طرح پر خودان میں ایک امتیاز قائم کرتا ہے غرض نبوت کی ضرورت اور اس کے اصول کے سمجھنے