حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 296
حقائق الفرقان ۲۹۶ سُورَة النَّحل مختلف تحقیقات سے یہ نتیجہ نکالا ہے ۔ گو اس نتیجہ میں فلاسفروں کو اختلاف ہے کہ ۳۶ مائل کے عمق سے نیچے اب تک ایک ایسا زوبانی اور ناری مادہ موجود ہے۔ جس کی گرمی تصور سے بالا ہے اسلام نے بھی دوزخ کو نیچے بتایا ہے ۔ ) جب زمین کی بالائی سطح زیادہ موٹی نہ تھی ۔ اس وقت زمین کے اس آتشیں سمندر کی موجوں کا کوئی مانع نہ تھا اور اس لئے کہ اس وقت حرارت زیادہ قوی تھی اور حرارت حرکت کا موجب ہوا کرتی ہے۔ زمین کی اندرونی موجوں سے بڑے بڑے مواد نکلے ۔ جن سے پہاڑوں کے سلسلے پیدا ہو گئے ۔ آخر جب زمین کی بالائی سطح زیادہ موٹی ہوگئی اور اس کے ثبات و نقل نے اس آتشی سمندر کی موجوں کو دبا لیا۔ تب وہ زمین حیوانات کی بود و باش کے قابل ہو گئی ۔ اسی واسطے قرآن کریم نے فرمایا ہے الْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ اور اس کے بعد فرمایا وَ بَت فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ (البقرة : ۱۶۵) القى كا لفظ جو آیت الْقَى فِي الْأَرْض میں آیا ہے۔ اس کے معنی ہیں۔ بنایا۔ کیونکہ قرآن مجید کی دوسری آیت میں بجائے القی کے جَعَل کا لفظ آیا ہے۔ جس کے صاف معنی ہیں۔ بنایا۔ اور ان امور کی کیفیت آیت ذیل سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔ سے۔ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَرَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا ( حم السجدة: 11) اور زمین کے اوپر پہاڑ بنائے اور اس میں برکت رکھی اور اس پر ہر قسم کی کھانے کی چیزیں پیدا پیدا کیں ۔ ایک عجیب نکتہ آپ کو سناتے کو سناتے ہیں ۔ آپ سے میری مراد وہ سعادتمند ہیں جو اس نکتہ سے فائدہ اٹھاویں قرآن کریم میں ایک آیت ہے ۔ اس کا مطلب ایسا لطیف ہے کہ جس سے یہ تمہارا سوال بھی حل ہو جاوے اور قرآن کی عظمت بھی ظاہر ہو۔ غور کرو اس آیت پر ۔ وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَ هِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ (النمل: ۸۹) اور تو پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرتا ہے کہ وہ مضبوط جمے ہوئے اور وہ بادل کی طرح اُڑ رہے ہیں۔ یہ اللہ کی کاریگری قابلِ دید ہے۔ جس نے ہر شے کو خوب مضبوط بنایا ہے۔ غور کرو یہاں ارشاد فرمایا ہے کہ پہاڑ تمہارے گمان میں ایک جگہ جمے ہوئے نظر آتے ہیں اور وہ ا میل (MILE) ۔ مرتب ۲ اور ہر قسم کے جانوروں میں جو اس زمین میں پھیلا رکھے ہیں۔