حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 295
حقائق الفرقان ۲۹۵ سُورَة النَّحل کھانا دیں تمہیں ۔ اور یہ ظاہر بات ہے کہ پہاڑوں کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے کہ ان میں برفیں پگھلیں ۔ چشمے جاری ہوں ۔ ند ۔ ندیاں نکلیں ۔ پھر ان کے سیل پر اس سطح سے جس میں ریگ ہوتی ہے۔ پانی مصفی ہو کر کنووں میں آتا ہے۔ پھر اس سے کھیت سرسبز ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک سلسلہ علاوہ رحمت کے سلسلے کے ہے جو بارانِ رحمتِ الہیہ سے ہے۔ جس کا ذکر اس کلمہ طیبہ میں ہے وَ انْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ (البقرۃ: (۲۳) اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے آیت کے یہ معنے ہوئے کہ ہم نے زمین پر پہاڑ رکھے کہ چکر کھاتے ہیں ساتھ تمہارے۔ یہ النبی طاقت کا ذکر ہے کہ اس ۔ کہ اس نے اتنے بڑے مستحکم مضبوط پہاڑوں کو بھی زمین کے ساتھ ساتھ چکر دے رکھا ہے اور نظام ارضی میں کوئی خلل نہیں آتا ۔ اب کوئی انصاف کرے کہ کن معانی پر اعتراض کی جگہ ہے ۔۔ ایک نہایت سچی فلسفی ہے اور اس سچی فلسفی پر جدیدہ علوم اور حال کے مشاہدات گواہی دیتے ہیں اور انہی مشاہدات سے بھی ہم گزشتہ دیرینہ حوادثات کا علم حاصل کر سکتے ہیں۔ طبقات الارض کی تحقیقات اور مشاہدات سے اچھی طرح ثابت ہو سکتا ہے کہ اس زمین کا ثبات وقرار اضطرابات اور زلازل سے خالق السموات و الارض نے تکوین جبال اور خلق کو ہسار سے ہی فرمایا ہے ۔ اور زمین کے تپ لرزہ کو اس علیم وقد پر نے تکوین جبال سے تسکین دی ہے چنانچہ علم طبقات الارض میں تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ زمین ابتدا میں ایک آتشیں گئیں تھی ۔ جس کی بالائی سطح پر دھواں اور دخان تھا اور اس امر کی تصدیق قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے۔ جہاں فرمایا ہے ۔ ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَ هِيَ دُخان ( حم السجدۃ: ۱۲) پھر وہ آتشین مادہ اوپر سے بتدریج سرد ہو کر ایک سیال چیز بن گیا۔ جس کی طرف قرآن شریف ان لفظوں میں ارشاد فرماتا ہے۔ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ (هود : ۸) پھر وہ مادہ زیادہ سرد ہو کر اوپر سے سخت اور منجمد ہوتا گیا۔ اب بھی جس قدر اس کے عمق کو غور سے دیکھتے جاویں اس کا بالائی حصہ سرد اور نیچے کا حصہ گرم ہے۔ کوئلوں اور کانوں کے کھودنے والوں نے اپنی ا اور برسایا بادل سے پانی پھر اگا ئیں اس کے ذریعہ سے کھانے کی چیزیں تمہارے لئے۔ ۲۔ پھر متوجہ ہوا آسمان کی طرف اور وہ دھواں تھا۔ سے اور وہ پانی جس پر زندگی کا مدار ہے اُس پر بھی اللہ ہی کا عرش ہے یعنی حکومت ۔