حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 285
حقائق الفرقان ۲۸۵ سُورَة الْحِجْر بریک ایک قوم تھی جس نے حضرت ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ کے زمانے میں بڑی ترقی کی ۔ انہوں نے تمام طاقتور جاگیروں اور علاقوں بلکہ شعراء وعلماء کو اپنے قبضے میں کر لیا تھا۔ ہارون الرشید نے ان کی نیت پر اطلاع پا کر انہیں ایک ہی وقت میں ہلاک کر دیا ۔ شاعروں کو چونکہ بہت انعام دیتے تھے۔ اس لئے انہوں نے ان کی سخاوتوں کی بڑی تعریف کی ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۳ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۲) ٨٦۔ وَمَا خَلَقْنَا السَّمَوتِ وَ الْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَ إِنَّ السَّاعَةَ لَاتِيَةٌ فَأَصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ - ترجمہ۔ اور ہم نے آسمان و زمین اور جوان میں ہے نہیں بنایا مگر تدبیر سے اور کچھ شک نہیں کہ انجام کی گھڑی آنے ہی والی ہے تو تو نیکی کے ساتھ درگزر کر ۔ تفسیر وَ مَا خَلَقْنَا السَّبُوت ۔ یہ آیت اس اعتراض کے جواب میں ہے جو فَأَخَذَتْهُم الصَّيْحَةُ سے کسی نادان کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے کہ زلزلے آنا تو ایک نیچرل رول ہے۔ پھر زلزلہ آنے پر صلحاء کی ہلاکت بھی ہو جاتی ہے۔ فرماتا ہے آسمان وزمین کو ہم نے حق و حکمت سے پیدا کیا۔ ہم نے پہلے ہی سے یہ انتظام کر رکھا ہے۔ عذاب اُسی وقت آئے گا۔ جب صلحاء بالعموم نہ رہے۔ اور زلزلہ اگر کسی ظاہری سبب سے پیدا ہوتا ہے تو اس کا باطنی سبب یہی ہے اور ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ 66 فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ - عذاب کے لانے کے لئے صبر بھی بہت مفید ہے۔ یہاں سے ایک اخبار ” شبھ چشتک“ نکلتا تھا۔ وہ اس سلسلہ پر سخت مفتریا نہ اور مصر حملے کرتا ۔ میرے دل میں بعض اوقات اس کے جواب کا جوش اٹھتا ۔ اس لئے میں نے ایک دفعہ حضرت کی خدمت میں عرض کیا۔ تو فرمایا کہ تمہارے جواب سے کیا بنے گا؟ صبر کرو کہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ پھر ایک موقع آیا تو آپ نے توجہ فرمائی اور ایسی توجہ فرمائی کہ جناب البہی سے سر دست تو قادیان سے ان کا صفایا ہی ہو گیا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۳ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه (۱۴۲)