حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 284
حقائق الفرقان ۲۸۴ سُورَة الْحِجْر تفسیر - الآئِكَةِ - بن جنگل جس میں بہت سے درخت ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔ ليا مام - امام اس شاہراہ اور اس شخص کو کہتے ہیں جس کی طرف لوگوں کا قصد ہو۔ چونکہ شاہراہ کی طرف اکثر لوگ منزل تک پہنچتے ۔ (ضمیمه اخبار بدر جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۳ فروری ۱۹۱۰ء صفحه ۱۴۱) ۸۱ تا ۸۳ - وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحُبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِينَ - وَآتَيْنَهُمُ ايْتِنَا فَكَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ - وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا آمِنِينَ - ترجمہ۔ اور جھٹلا یا حجر کے رہنے والوں نے بھیجے ہوؤں کو۔ اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دی تھیں وہ اس سے منہ پھیرتے رہے۔ اور وہ پہاڑ کرید کرید کر گھر بناتے تھے بے فکر ۔ تفسير الحجر - نمود کی قوم جہاں رہتی تھی اس کو حجر کہتے ہیں ۔ حجر میں بحث ہوئی ہے کہ حجر کیا چیز تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں۔ اس قوم کے دارالسلطنت کا نام ہے۔ بعض اس میدان کا نام بتاتے ہیں۔ عدن سے لے کر حدیدہ۔حضرموت، حجاز، تہامہ کے علاقوں کو حجر کہتے ہیں وہاں کی قومِ ثمود میں صالح" نبی آئے تھے۔ ایتنا ۔ اپنے احکام ۔ وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ ۔ اس زمانے میں بھی اس کا رنگ پایا جاتا ہے۔ یعنی پہاڑ پر کوٹھیاں بنانا۔ ایک سہل زمین ہوتی ہے۔ ایک جبلی (یعنی پہاڑی ) زمین ۔ دونوں مقامات پر اس کے زمانے کے لوگ بھی کوٹھیاں وغیرہ بناتے ہیں اور اس پر اتراتے ہیں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۳ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۱، ۱۴۲) ۸۴ - فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ - ترجمہ۔ ان کو عذاب نے آلیا صبح ہوتے ہوتے ۔ - تفسير - الصَّيْحَةُ ۔ اس کے معنے عذاب کے ہیں۔ آواز کے معنے بھی درست ہیں۔ جب پہاڑوں میں بڑے بڑے زلزلے آتے ہیں تو زلزلوں سے : سے پہلے گونج اور گرج پیدا ہوتی ہے۔ صَاحَ الزَّمَانُ لِآلِ بَرْمَكَ صَيْحَةً خَرُّوا لِصَيْحَتِهِ عَلَى الْأَذْقَانِ لے زمانہ بھر کے لوگ آلِ برمک پر ہونے والے ظلم وستم کی وجہ سے چلائے اور اس چلانے کی وجہ سے وہ ٹھوڑیوں کے بل گر پڑے۔