حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 19 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 19

حقائق الفرقان ۱۹ سُورَةُ الْأَنْفَال کیا معنی؟ تیرے یہ دشمن ذلت اور ناکامی اور حسرت کی موت مریں گے۔ اس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ اللہ جل شانہ کی وہ ذات پاک ہے کہ جس پر وہ راضی ہو جاوے اس کی بات عظیم الشان بات دکھلاتی ہے لیکن اگر وہ راضی نہ ہو تو اس کی کوئی محنت اور کوشش کام نہیں دیتی ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ مخالف اپنی اولاد، مال ، سب رسم و رواج، سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے بیٹھے۔ پھر دیکھو کس زور سے اذان میں کہا جاتا ہے۔ اللہ اکبر۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر گھمنڈی کا گھمنڈ توڑ سکتا ہے۔ ہر شیخی باز اور ہر منصوبہ ساز کے بدا رادہ کو اظہار سے پہلے ہی تباہ کر سکتا ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۱۵) ۴۰،۳۹ - قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرُ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ ۚ وَ إِنْ يَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْأَوَّلِينَ - وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَ يَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ - - ترجمہ ۔ ۔ کہہ دے ان سے جنہوں نے حق کو چھپایا اگر وہ باز آجائیں گے تو ان کی مغفرت ہو جائے گی گزشتہ امور پر اور اگر پھر وہی کریں گے تو گزر چکا ہے طریقہ اگلوں کا ۔ اور ان سے لڑتے رہوتا کہ فساد باقی نہ رہے اور سب دین اللہ ہی کا ہو جائے تو اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے ( یعنی ان پر زیادتی نہ ہوگی ) ۔ تفسیر - إنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرُ لَهُمْ - مغفرت کی شرط ہے کہ جن بدیوں میں گرفتار ہیں ان کو چھوڑ دیں ۔ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ - یہ لڑائی کی غرض بتائی کہ فساد نہ رہے۔ - وَ يَكُونَ الدِّين محله لله - یعنی جو عقیدہ دل میں ہو وہی ظاہر کر سکیں ۔ سب دین اللہ کے لئے ہو جائے ۔ مومن کے لئے کوئی خوف مذہبی معتقدات و اعمال کا نہ رہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۵۰ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ء صفحه (۱۱۲)