حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 274
حقائق الفرقان ۲۷۴ سُورَة الْحِجْر گا ان کے لئے اور ضرورغوی ٹھہراؤں گا ان کو سب کو ۔ نی کے مجرد ہے۔ اغوی اس کے مزید کے معنی ہیں، اضلال ، اہلاک، افساد، نامراد کرنا، بدمزہ کر دینا، زندگی کا تلخ کر دینا۔ ، پھر سن ! باری تعالیٰ کی مقدس بابرکت ذات پاک نے انسان کو استطاعت ، نیک و بد کی تمیز عقل اور فطرت مرحمت فرما کر ہزاروں ہزار انبیاء اور رسول اور کتابیں اور اپنی رضا مندی کے اسباب بتا کر دنیا میں ہدایت کو پھیلایا ہے۔ اور انبیاء اور ان کے سچے اتباع اور فرماں برداروں کی ہمیشہ نصرت اور اعانت فرمائی ہے۔ ہاں باستطاعت انسان پر جبر نہیں فرمایا کہ اس کی گردن پکڑ کر اس سے نیک اعمال کرائے۔ شیطان اور اس کی ذریات کے وجود سے یہ فائدہ ہے کہ انسانوں میں فرماں برداروں کو فرماں برداری کی خلعت وعزت عطا فرمادے ۔ مگر پھر بھی شیطان کو یہ اختیار نہیں دیا کہ لوگوں کو بجبر گمراہ کرے۔ چونکہ انسان بڑے درجات کا طالب تھا۔ اور بغیر صدق وصفا انعام نہیں مل سکتا ۔ اس واسطے دو محرک نیکی و بدی کے یعنی فرشتہ اور شیطان پیدا کئے ۔ قانون قدرت اس بات پر دلالت کرتا ہے۔ سب لوگ اپنے نفس میں دو محرک محسوس کرتے ہیں۔ قاتل پہلے قتل کرتا بھی ہے اور پچھتاتا بھی۔ پس واقعی فرشتہ و شیطان کا وجود عالم میں ہے۔ اگر وید کامل ہے تو اس میں ضرور یہ فلسفہ ہوگا۔ فرق الفاظ میں ہو تو کوئی بات نہیں۔ وَلِكُلِّ أَنْ يَصْطَلِح ان محرکات کی اصلاح تم میں کیا ہے۔ بتاؤ اور کھول کر بتاؤ۔ اضداد کا مقابلہ ایک واقعی اور صحیح بات ہے۔ کیمسٹری کی شہادت۔ مرکبات عالم بلکہ بسائط کی نسبت اگر نہ لیں تو بھی لطیف و کثیف کا سنگرام ( جنگ ) ، سعید وشقی، سر پشٹ و دیسیو،مومن و کافر، دیو و اسر کائید ھ کوئی مخفی راز نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہدایت کے لئے اپنا کلام نازل فرماتا ہے۔ بایں ہمہ ایک اے غمی کے معنی ہیں ۔ ضلال ، ہلاکت، نامرادی ، بدمزگی ، عیش ، تلخ ، بداعتقادی کی جہالت، ابن الاثیر، راغب، لسان العرب۔ منہ ہے اور ہر ایک کا حق ہے کہ وہ (کوئی) اصطلاح بنائے ۔