حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 257
حقائق الفرقان ۲۵۷ سُورَة إِبْرَاهِيم ۴۳۔ وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللهَ غَافِلاً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّلِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ - ترجمہ۔ اور اے مخاطب ! تو یہ نہ سمجھنا کہ اللہ غافل ہے ان کاموں سے جو ظالم کر رہے ہیں اس کے سوا نہیں کہ اللہ ان کو پیچھے ڈال رہا ہے اس دن کے لئے جس میں کھلی آنکھیں چھت سے لگی رہ جائیں گی۔ تفسیر۔ " میں اللہ دیکھتا ہوں یہ اس سورۃ کا ابتدا تھا۔ جس کا نا ۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ : یہ تھا کہ میں نگران حاکم ہوں خلاف ورزی پر سزا دوں گا۔ چنانچہ اس کو کھولتا ہے اور فرماتا ہے۔ غافلا ۔ بے خبر ۔ لِيَوْمٍ ۔ ایک وقت کے لئے ۔ (ضمیمہ اخبار بدرقادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ صفحه ۱۳۷) ۴۴- مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرُفُهُمْ وَ أَقْدَتْهُمْ هَوَاء - ترجمہ ۔ دوڑتے ہوں گے اپنے سر اٹھائے ہوئے اپنی طرف پلٹ کر نہ دیکھتے ہوں گے اور ان کے دل ہوا بنے ہوئے ہوں گے ۔ وو تفسیر ۔ مُهْطِعِينَ ۔ اصطاع کے معنے جلدی کرنے کے ہیں اور ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے کے لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرُفُهُمْ ۔ آنکھ جھپک نہ سکیں گے۔ هواء ۔ خالی ہوں گے عربی زبان میں اس دل کو کہتے ہیں جس میں خیر و عقل نہ ہو۔ عقل وہ صفت ہے جس سے مومن اپنے تئیں بدیوں سے روک سکتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۷)