حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 252
حقائق الفرقان ۲۵۲ سُورَةِ إِبْرَاهِيم سَخَّرَ لَكُم ۔ ایک شخص مجھے کہنے لگا کہ آؤ تمہیں تسخیر کا عمل بتادیں۔ میں نے کہا کہ مجھے ضرورت نہیں کیونکہ مجھے ایسا عمل یاد ہے کہ جس سے نہ صرف سورج بلکہ چاند اور رات ودن، نہریں، سب مسخر ہوں ۔ میں نے اسے یقین دلایا کہ اس آیت کریمہ نے ان تسخیروں سے ہمیں بے پرواہ کر دیا ہے۔ بامرہ ۔ یہ لفظ یا د رکھنے والا ہے۔ ( جناب سلیمان علیہ السلام کے بیان میں کام دے گا ) ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ صفحه ۱۳۷) ایک مرتبہ ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ ہم تم کو عمل تسخیر بتائے دیتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ قرآن کریم میں لکھا ہے۔ وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ ۔ یعنی جو کچھ زمین و آسمان میں ۔ میں ہے ہم نے تمہارا مسخر بنا دیا ہے۔ اب اس سے زیادہ آپ مجھ کو کیا بتائیں گے؟ سن کر حیران سا رہ گیا۔ ( مرقاة اليقين في حياة نور الدین صفحه (۲۶۴) ۳۵ واتكُم مِّنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ - ترجمہ۔ تم کو دیا ہر ایک چیز میں سے جو تم نے مانگا اس سے اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنے لگو تو پورا کبھی نہ گن سکو گے ان کو ۔ بے شک انسان بڑا ہی اپنی جان پر ظلم کرنے والا حد درجہ کا ناشکرا ہے۔ تفسیر رزق ہماری ضرورت سے پہلے پیدا ہوتا ہے۔ ہم ابھی ماں کے پیٹ سے باہر نہ آئے تھے کہ چھاتیوں میں دودھ آیا۔ جو نمک ہم آج سالن میں کھاتے ہیں وہ مدت ہوئی کہ کان سے نکل چکا ہے۔ پھر وہاں سے بڑے شہر میں پہنچا۔ پھر اس گاؤں کی دکانوں میں آیا۔ پھر ہمارے حصہ کا الگ ہو کر گھر آیا۔ پھر ہانڈی میں سب کے لئے تھا۔ تو لقمہ کے ساتھ لگ کر میرے منہ میں آیا۔ اسی طرح کپڑے کا حال ہے۔ غرض کیا کیا احسان ہیں اس مولی کے۔ پس مالی شکر یہ بھی اُسی کے لئے ہونا چاہیے۔ یہ غلط ہے کہ خدا نے کسی کو مال دینے میں بخل کیا۔ بلکہ اس نے تو فرمادیا ہے وَ اللكُم مِّنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ پھر اس کے غلط استعمال یا اپنی شامت اعمال نے لا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُم (النساء:1) کے ماتحت کسی کے لئے اس میں تنگی پیدا کر دی۔ ا اور مال ۔۔۔۔۔۔ ان کے حوالے نہ کرو جو کم عقل ہوں ۔ - البدر جلد ۹ نمبر ۱۹ مورخه ۳ مارچ ۱۹۱۰ ء صفحه ۲)