حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 16
حقائق الفرقان ۱۶ سُورَةُ الْأَنْفَال خدا کے فضل سے آپ تو مدینے میں پہنچ گئے اور بڑے اعزاز واکرام سے وہاں قبول کئے گئے ۔ اس وقت سے قریش اور ان کے شرکاء یعنی یہودوں کے بغض و عناد سے مسلمانوں کو اپنی حراست اور حفاظت نہایت بیدار مغزی کے ساتھ کرنی پڑی ۔ سبحان اللہ ! ایک چھوٹے سے شہر پر ہزار ہا قبائل عرب کے متفق و متواتر حملوں کو روکنا پڑا۔ پس ایسے ہنگام میں سخت تدارک کرنے کی ضرورت ہوتی تھی تا کہ مسلمانوں کے گروہ کا وجود باقی رہے۔ ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب ۔ حصہ اول صفحہ ۹۶٬۹۵) ۳۲۔ وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمُ ايْتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَذَا إِنْ هذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ - ترجمہ ۔ ۔ اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو وہ کہتے ہیں جی ہاں ہم سن چکے اور اگر ہم چاہیں تو ہم اس کی طرح کہہ سکتے ہیں یہ تو کچھ نہیں ہاں ! اگلوں کی کہانیاں ہی ہیں ۔ تفسير - إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ۔ اس زمانہ میں بھی ایسا کہنے والے موجود ہیں۔ دھرم پال نے ایک رسالہ اس نام کا لکھا ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۵۰ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ء صفحه (۱۱۲) ۳۳ وَ إِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هُذَا هُوَ الْحَقِّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرُ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ - ترجمہ۔۔ اور جب وہ کہنے لگے اے ہمارے اللہ ! کہ اگر یہی دین حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی بڑا ٹیس دینے والا عذاب ہم پر لا۔ تفسیر - فَامْطِرُ عَلَيْنَا۔ شقی لوگوں کی یہی علامت ہے کہ وہ کسی کے حق ہونے کا ثبوت اسی میں مانگتے ہیں ۔ ابو جہل نے بھی یہ دعا کی تھی۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۵۰ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ صفحه ۱۱۲) ۳۴- وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّ بَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ - ترجمہ ۔ حالانکہ اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں جب تک کہ تو ان میں ہے اور جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے جب بھی ان کو عذاب نہ دے گا۔