حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 15
حقائق الفرقان ۱۵ سُورَةُ الْأَنْفَال ہی معنوں سے خدا تعالیٰ نے اپنی نسبت فرمایا وَاللهُ خَيْرُ الْمُکرین اور دوسری قسم مگر مذموم ہے یعنی برے فعل کا ارادہ کرنا۔ یہی معنی ہیں اس آیت کے وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ الشَّيء ۔۔ الخ اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم نے اقوام عرب کو عبادت الہیہ کی طرف بلایا اور بت پرستی اور بدچلنی کے اقسام سے روکا اور باہمی خانہ جنگیوں سے ہٹا کر ان میں وحدت و اتحاد کی روح پھونکنی شروع کی اس پر مشرک نادان احمقوں نے آپ کے مقاصد کے برخلاف بڑی بڑی تدابیر شروع کر دیں اور آپ کو اس پاک ارادہ سے ہٹانا چاہا اور آپ کو اور آپ کے احباء کو دکھ دیئے او مخفی تدابیر سے اسلامی کارخانہ کو نابود کرنا چاہا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی و طمانیت بخشی کہ تیرے مقاصد و مطالب کو کوئی نہیں روک سکتا اور یہ لوگ ناکام رہیں گے۔ اور ان کی مخفی تدبیریں خود ان پر اور کی خودان الٹ پڑیں گی۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحه ۸۳ تا ۸۵) اہل مکہ نے تمام اپنی تدابیر کو اسلام کی روک میں کمزور دیکھ کر چاہا کہ نبی عرب کو قتل ہی کر ڈالیں مگر بعض قومی اور رسمی بندشوں کی وجہ سے بنی مطلب سے ڈر گئے ۔ اس لئے دارالندواں میں ایک انجمن منعقد کی ۔ وہاں یہ تجویز ٹھہری کہ مختلف قبیلوں کے چند نو جوان ہو شیار مل کر ایک ہی دفعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹوٹ پڑیں اور تلوار سے اس کا کام تمام کر ڈالیں۔ بنو مطلب کس کس سے لڑیں گے۔ آپ الہام النبی کے مخبر سے اطلاع پا کر مع ابو بکر صدیق اپنے خالص رفیق کے مدینے کو چلے گئے اس کمیٹی کی مختلف راؤں اور فیصلے کے بابت قرآن میں یوں آیا ہے۔ جب کافر تیری بابت تجویزیں خفیہ لڑا رہے تھے کہ تجھے قید کریں یا نکال دیں یا مار ڈالیں اور اللہ بھی تجویز کر رہا تھا اور الله تدابیر میں سب پر غالب ہے“ دو آپ کے پکڑ لانے پر سو اونٹ کا انعامی اشتہار دیا گیا۔عرب مفلس جنگجو اور سو اونہ درسو اونٹ کا انعام ا خوب قابل لحاظ ہے۔ ے یہ قریش کے پارلیمنٹ کی جگہ تھی۔ اس میں قریش کے سوا اور قوم کا آدمی چالیس برس سے کم عمر کا داخل نہیں ہو سکتا تھا۔