حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 233 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 233

حقائق الفرقان ۲۳۳ سورة الرعد يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ - چور، زانی ، شراب خور، غرض تمام نا فرمان کبھی اخیر عمر میں سکھ نہیں پاتے ۔ ایک تاریخی واقعہ ہارون رشید کا ایک بھائی بڑا زیرک تھا۔ اس نے اسے احتساب پر مقرر کیا۔ کا اس نے بازار کی دوکانوں کی تحقیقات کی ۔ ایک دوکاندار سے پوچھا۔ اس نے بتلایا کہ پیسہ روپیہ نفع لیتے ہیں۔ اور کبھی نقصان نہیں ہوتا۔ بزاز سے پوچھا۔ اس نے کہا کہ چار آ نہ فی روپیہ نفع لیتے ہیں ۔ کوئی رقم مار بھی لیتے ہیں مگر معمولی کام چلتا ہے ۔ پھر ان دوکانوں کی خبر لی جن میں چورا پنا مال تھوڑی قیمت پر فروخت کر جاتے ہیں ۔ اس نے کہا۔ نفع تو ہم ایک روپیہ کا سو بھی کما لیتے ہیں مگر ہمارا مال نقصان ہو کر حساب برابر ہی رہ جاتا ہے۔ بلکہ بعض وقت کھوٹ دھوکہ میں لے کر سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔ ہارون رشید کے بھائی نے جا کر کہا۔ احتساب کی ضرورت نہیں۔ خدا خود ہی اپنا کارخانہ چلا رہا ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۵) ۴۴- وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَ بَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتٰبِ - ترجمہ ۔ اور کافر کہتے ہیں کہ تو تو رسول ہی نہیں ۔ تو کہہ دے اللہ ہی کی گواہی کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان اور وہ شخص گواہ ہے جن کو ( تو ریت وغیرہ) کتاب (آسمانی) کا علم ہے۔ تفسیر - کفی بِاللهِ شَهِيدًا ۔ اپنی صداقت میں اللہ کی نصرت کی گواہی پیش کی ہے کہ باوجود کوئی جتھا وغیرہ نہ ہونے کے میں کامیاب ہوں گا ۔ دوم تمام اہلِ کتاب اپنی اپنی کتابوں سے اس کی تعلیم کا مقابلہ کر لیں اور دیکھیں کہ کیسی جامع و اعلیٰ تعلیم ہے۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ء صفحه ۱۳۵) قُل كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَ بَيْنَكُمْ ۔ کہہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہ ہے۔ پھر وہ شخص جسے کتاب کا علم دیا گیا ہے۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۶) تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۶۱) وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الكِتب - استثناء باب ۱۸ باب ۳۵۔ یسعیاہ باب ۲۱ - ۵۴