حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 231 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 231

حقائق الفرقان ۲۳۱ سورة الرعد رو ٹاٹ اوڑھ کے اور خاک میں بیٹھ کے کب کی تو بہ کرتے۔“ پھر متی ۲۳ باب ۳۷ دیکھو۔ ” اے یروشلم ! اے یروشلم جو نبیوں کو مار ڈالتا اور انہیں جو تیرے پاس بھیجے گئے سنگسار کرتا ہے کتنی بار میں نے چاہا تیرے لڑکوں کو جمع کروں دیکھومتی کی ان آیات میں خور زین اور بیت صیدا اور یروشلم سے اس کے مکین مراد ہیں ۔ بولنے میں تو مکان بولا گیا ہے۔ پر مقصود مکان والے ہیں۔ ایسا ہی قرآن کریم کی اس آیت میں ۔ - وہ الارض سے جو معترف بالف لام ہے خاص زمین والے یعنی اہلِ مکہ مراد ہیں ۔ مقصود آیت کا یہ ہے کہ باری تعالیٰ مکہ کے رؤسا اور شرفاء کو نصیحت کرتا اور عبرہ ارشاد فرماتا ہے ” کیا انہوں نے (اہلِ مکہ نے ) نہیں دیکھا کہ ہم مکے والوں کے پاس آتے ہیں اور ان کے اطراف کو گھٹاتے چلے آتے ہیں ۔“ اطراف کے معنی سمجھنے کے لئے اس فقرے پر غور کرنا واجب ہے جو ابو طالب نے وفات کے وقت اپنی آخری اسپیچ میں کہا۔ وَهُوَ هُذَا وَ أَيْمُ اللهِ كَأَنِّي انْظُرُ إِلَى صَعَالِيْكَ الْعَرَبِ وَأَهْلِ الأطْرَافِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ النَّاسِ قَدْ أَجَابُوا دَعْوَتَهُ - 66 اور خدا کی قسم میں دیکھتا ہوں عرب کے غریبوں اور اہلِ اطراف اور کمزور لوگوں کو کہ محمدؐ کے کہنے کو مان لیا ہے۔ اس اسپیچ میں ابو طالب گویا تمام رؤسائے مکہ کے روبرو اس آیت کی تصدیق کرتا ہے۔۔۔ اور کہتا ہے اے سکے والو! اہل اطراف نے تو اس کی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو مان لیا ہے۔ اور تعلیم النبی اور کلام ربانی کا اطراف میں آنا یعنی پھیلنا گویا خدا کا اطراف میں آنا ہے۔ حاصل کلام آیت یہ ہوا کہ کفار کی تعداد کم ہوتی چلی جاتی ہے اور مسلمان دن بدن بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔ ( فصل الخطاب لمقدمه اهل الكتاب - حصہ اول - صفحہ ۱۳۵، ۱۳۶) کیا اس وقت تم نہیں دیکھتے کہ تَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا کیسے واضح طور پر پورا ہو رہا ہے۔ اعلیٰ درجہ کے عظیم الشان لوگ طرف کہلاتے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ ایک طرف ہو کر بیٹھتے ہیں اور ادنیٰ درجہ کے لوگوں میں سے بعض سلیم الفطرت ہوتے ہیں وہ بھی طرف کہلاتے ہیں ۔ یعنی