حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 14 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 14

حقائق الفرقان ۱۴ سُورَةُ الْأَنْفَال اور اللہ تعالیٰ بھی تدبیریں کرتا ہے اور کرے گا اور اللہ تعالیٰ ان مخالفوں کی تدبیروں پر غالب آنے والا اور اس کی تدابیر ہمہ خیر ہوتی ہیں۔ وو اور دوسرے معنی کے لحاظ سے آیت کے معنی یہ ہوئے ۔ جب منکر تجھے بلاؤں میں پھنسانے لگے کہ تجھے قید کر لیں یا تجھے قتل کر دیں یا تجھے نکال دیں اور پھنساتے ہیں اور پھنسا ئیں گے اور اللہ تعالیٰ بہت ہی بھلا ہے اپنے مقربوں کے بچانے اور دشمنوں کے عذاب دینے میں ۔ 66 تیسرے معنی کے لحاظ (مخفی تدبیر ) سے آیت کے یہ معنے ہوئے۔ وو ” جب مخفی تدبیر کر رہے تھے تیری نسبت وہ جو منکر ہوئے کہ تجھے قید کر لیں یا تجھے قتل کر دیں یا تجھے نکال دیں اور مخفی تدبیر کرتے ہیں اور کریں گے اور اللہ مخفی تدبیر کرتا ہے اور اللہ بہت ہی بھلا مخفی مدبروں میں سے ہے۔“ مگر کا لفظ بلا اضافت عام مفہوم رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں شریروں کے ارادوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہاں مَكْرُ السَّيِّئ یعنی مکر بن کر کے ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مکر برا بھی ہوتا ہے اور بھلا بھی۔ اس میں قرآن کریم کا خود ارشاد ہے وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ (الفاطر: ۴۴) اور برے منصوبے کرنے والوں کا وبال خود ان ہی پر پڑتا ہے۔ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ (النمل: ۵۲) پس تو دیکھ کہ ان کے منصوبوں کا انجام کیا ہوا ؟ ہم نے ان سب کو مع ان کی قوم کے تباہ کر دیا۔ اور مفردات راغب میں ہے۔ وَذُلِكَ ضَرْبَانِ مَكْرُ مَحْمُودٌ وَهُوَ أَنْ يَتَحَرَّى بِذلِكَ فِعْلٌ جَمِيلٌ وَ عَلَى ذُلِكَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَاللَّهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ - وَ مَنْ مُومٌ وَهُوَ أَنْ يَتَحَرَّى بِهِ فِعْلٌ قَبِيحٌ قَالَ اللهُ تَعَالَى وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّةُ إِلَّا بِأَهْلِهِ - اور مکر کی دو قسمیں ہیں ایک مکر محمود ہے جس سے نیک اور عمدہ کام کا قصد کرنا مقصود ہے چنانچہ ان