حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 228
حقائق الفرقان ۲۲۸ سورة الرعد ۳۷ وَ الَّذِينَ آتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَفْرَحُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمِنَ الْأَحْزَابِ مَنْ يُنْكِرُ بَعْضَهُ قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ وَلَا أُشْرِكَ بِهِ إِلَيْهِ ادْعُوا وَ الَيْهِ مَا - ترجمہ۔ اور اہل کتاب خوش ہیں اس سے جو اتارا گیا تیری طرف اور بعض فرقے انکار کرتے ہیں ان کی بعض باتوں کا تو کہہ دے مجھ کو تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں اللہ ہی کی عبادت کروں اور اس کے برابر کسی کو نہ سمجھوں اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔ تفسير آتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ ۔ اپنی کتاب کا فہم بخشا ہے۔ داوو ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۶ رجنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۴) ٣٩ - وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ ۔ ترجمہ ۔ اور ہم نے بہت سے رسول تجھ سے پہلے بھیجے اور ان کو بیوی اور اولا د والا ہم نے بنایا تجھ تھا۔ اور کسی رسول کی طاقت نہیں کہ کوئی نشانی لائے اپنے اختیار سے مگر اللہ ہی کے حکم سے ہر ایک وعدے کے لئے ایک محفوظ کتاب ہے۔ تفسیر۔ بعض لوگ اس خیال کے تھے کہ دنیا سے تعلقات نہیں چاہئیں۔ تعلق محض حضرت سبحانہ سے چاہیے ایسے لوگ اس زمانہ میں بھی پائے جاتے ہیں جن کو سادھو، اداسی وغیرہ کہتے ہیں۔ ان کے جواب میں یہ آیات فرماتا ہے کیونکہ اسلام جامع کمالات مذاہب مختلفہ ہے۔ اس نکتہ کو نہ سمجھ کر ہر فرقہ نے اپنے اپنے مذاق کے رو سے اس پر اعتراض کرنے میں غلطی کھائی ہے۔ اگر بیابانوں میں رہنے والوں نے ازواج اور ذریت کو برا منایا تو دنیا داروں کو یہ اعتراض تھا کہ ذکر و شغل کے لئے اتنا وقت کیوں ہو ۔ اسی طرح صحابہ ح صحابہ کرام " جہاد کے متعلق تلوار و تیر کو درست کرتے رہتے ۔ جس کو بعض فقراء ( جو مرغے کا ذبح کرنا بھی نہیں دیکھ سکتے ) دیکھ کر حیران رہ جاویں۔ اسلام نے ایک درمیانی راہ اختیار کی اور سب باتوں کو لے کر ان میں اصلاح فرمادی۔