حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 222 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 222

حقائق الفرقان ۲۲۲ سورة الرعد ۳۲۔ وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلَّمَ بِهِ الْمَوْتَى بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا أَفَلَمْ يَايُشَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ لَوْ يَشَاءُ اللهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا تُصِيبُهُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتَّى يَأْتِيَ وَعْدُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الميعاد - ترجمہ۔ اور اگر قرآن ایسا ہوتا کہ چلائے جاتے اس سے پہاڑ یا کاٹ دی جاتی اس سے زمین یا بات کرا دی جاتی اس کے سبب سے مردوں سے ( جب بھی اکثر کافر نہ مانتے ) ہاں اللہ ہی کے سب احکام ہیں ۔ کیا ظاہر نہیں ہوا ایمان داروں کو کہ اگر اللہ نے چاہا ہوتا تو سب ہی آدمیوں کو ہدایت کر دیتا ۔ اور کافروں کو تو ہمیشہ پہنچتی رہے گی ان کے کرتوتوں کے سبب مصیبت یہاں تک کہ تو نازل ہو جائے گا ان کے شہر کے قریب جب تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو جائے ( یعنی فتح مکہ ) کچھ شک نہیں کہ اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ تفسیر - سيرَتْ بِهِ الْجِبَالُ ۔ اڑا دیئے گئے ۔ یا چلائے گئے پہاڑ۔ قُطِعَتْ بِهِ الْأَرض ۔ زمین دور تک قطع کر دی جائے ۔ کو کا جواب مذکور نہیں۔ اس لئے جزاء کی نسبت اختلاف ہے۔ دو جواب اس کے بتائے ہیں۔ قرانا ۔ سے مراد کوئی کلام الہی ہے ۔ پس فرماتا ہے۔ کہ اگر کسی کلام الہی میں یہ بات ہے کہ اس سے پہاڑ چلائے جائیں ۔ زمین قطع ہو ۔ مردے بولیں تو ہم اس قرآن میں بھی دکھا دیں گے۔ دوم ۔ یہ کہ اگر قرآن سے ہم ایسا بھی کر دیں تو وہ یہی قرآن ہے۔ میری سمجھ میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن تمہارے تمام جبال یعنی امراء کو اڑا دے گا۔ اور تمام زمین میں پھیل جاوے گا ۔ اور مردہ دل کفار زندہ مومن بن جاویں گے۔ بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا ۔ بلکہ من رکھو کہ تمام ملک میں اسلامی حکومت ہو جاوے گی۔