حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 218 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 218

حقائق الفرقان ۲۱۸ سورة الرعد عقل والے ہیں ۔ وہی جو الہی معاہدوں کا پورا خیال رکھتے ہیں اور جس کسی سے مستحکم وعدے کئے ۔ ان ۔ کو نہیں توڑتے ۔ جن سے ملاپ کرنا چاہیے ان سے ملاپ کرتے ۔ اللہ کی نافرمانی کا خوف رکھتے اور برے کاموں کے بدلہ سے ڈرتے وہی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے طالب ہو کر بردباری کرتے ہیں اور نمازوں کو درست رکھتے اور کچھ اللہ کا دیا ظاہری اور باطنی طور پر خرچ کر دیتے ہیں۔ اور خاص بدی کا مقابلہ خاص نیکی سے کیا کرتے ہیں۔ انہیں کو انجام کار آرام ہوگا۔ ( تصدیق براہین احمدیہ ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۳۱) وَالَّذِينَ صَبَرُوا ۔ نیکی پر صبر تو اس پر دوام ہے اور بدیوں پر صبر کہ ان سے بچار ہے۔ وَ الَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللهُ بِل ۔ جن لوگوں کے ساتھ خدا نے ملنے کا حکم دیا ہے ان سے فوراً مل جاتے ہیں ۔ جب اللہ اکبر کی آواز کان میں آتی ہے۔ اس وقت کوئی چیز ایسی نظر نہیں آتی ۔ جس کا جوڑ میں خدا کے مقابلہ میں ٹھہراؤں ۔ کوئی پیاری سے پیاری چیز بھی مجھ کو اللہ اکبر سے نہیں ہٹا سکتی ۔ یعنی کوئی اللہ کے جوڑ کا نظر نہیں آتا۔ اگر کوئی شخص ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر، ہماری شریعت پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو ہم کو چاہیے کہ کسی رشتہ دار تک کی پرواہ نہ کریں۔ خوب اس کا مقابلہ کریں ۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ حدیث ، ائمہ تصوف ائمہ فقہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی تعلق ہونا چاہیے۔ علی ابن مدینی نے اسماء الرجال ایک کتاب لکھی ہے اس کے باپ نہایت عابد زاہد تھے ۔ صاف لکھ دیا کہ میرے باپ علم حدیث میں ہرگز قابل سند نہیں ۔ لوگوں نے کہا کہ تم نے باپ کا خیال نہ کیا۔ فرمایا کہ مجھ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصل باپ کے وصل سے زیادہ عزیز ہے۔ ان ائمہ کے بعد ماں باپ اور ان کے رشتہ دار، بیوی اور اس کے رشتہ دار یہ سب اس قابل ہیں کہ ان کا بہت لحاظ رکھے۔ ان سے تعلق بڑھائے لیکن اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ میں یہ بیچ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس درخت سے تم سایہ کا فائدہ اٹھاتے ہو۔ اس کے نیچے پاخانہ نہ پھرو۔