حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 207
حقائق الفرقان ۲۰۷ سُورَة يُوسُفَ موجود نہ تھا جب وہ متفق ہو چکے تھے اور وہ تدبیریں کر رہے تھے۔ تفسیر انباء - نباء کہتے ہیں عظیم الشان بات کی خبر ۔ الْغَيْبِ ۔ یعنی یہ ایک پیشگوئی ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۶ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۲) ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ ۔ مکہ والوں کو بتایا کہ تم بھی ایسا ہی کرو گے۔ اور آخر میں تم پر فاتح ہوں گا۔ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ ۔ مکہ والوں کے پاس۔ تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۶۱) ۱۰۶ ۱۰۷ ۔ وَ كَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ - وَمَا يُؤْ مِنْ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُونَ - ترجمہ۔ اور کتنی بہت سی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں جس کی طرف سے وہ گزرے چلے جاتے ہیں اور وہ اس سے منہ پھیرے رہتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور مشرک ہی رہتے ہیں ۔ ۔ تفسیر۔ جناب یوسف علیہ السلام کے قصہ میں بہت بڑی نصیحت ہے۔ چھوٹے بچے کو بھی حقارت کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ انبیاء یھم السلام کسی کی حقارت بھی کرتے ہیں تو نام نہیں لیتے ۔ دیکھو حضرت یوسف کی حقارت کرنے والوں نے کتنے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ دوسری نصیحت یہ ہے۔ کہ جو کوئی اللہ کی طرف جھکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو پسند آتا ہے۔ چاہے وہ چھوٹا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔ اسی ضمن میں مکہ والوں کو بتایا کہ تم نبی کریم کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی مبعوث ہونے کی حیثیت سے بچہ ہی تھے ۔ مگر ایک اولوالعزم ۔ خاتم کمالات رسالت تھے۔