حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 204
حقائق الفرقان ۲۰۴ سُورَة يُوسُفَ تفسیر - اِذْهَبُوا بِقَبِيصِي هذا - حضرت یوسف کے تمام کام قمیص ہی سے متعلق رہے۔ باپ کے پاس بھی بھائی قمیص ہی پر خون کر کے لے گئے تھے کہ بھیڑیا کھا گیا۔ پھر مصر میں بھی جب ایک عورت نے اتہام لگا یا تو قمیص ہی سے بڑیت ہوئی۔ اب جب ان کی خوشحالی کا وقت آیا تو اب بھی قمیص ہی بھیجا۔ یہ ایک مناسبت ہوتی ہے۔ بار یک بین لوگ اس قسم کی باتوں کو خوب سمجھتے ہیں۔ عَلَى وَجْهِ آبی ۔ میرے باپ کے آگے رکھ دو۔ يَأْتِ بَصِيرًا ۔ وہ یقین کرلے گا۔ (ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۶ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۱، ۱۳۲) ۱۱ ۹۵، ۹۶۔ وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلَا أَنْ تُفَنِّدُونِ - قَالُوا تَاللَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلَلِكَ الْقَدِيمِ - ترجمہ ۔ اور جب شہر سے جُدا ہوا قافلہ ( یعنی مصر سے ) کہا ان کے باپ یعقوب نے ( کنعان اور (یعنی میں) میں پاتا ہوں یوسف کی حکومت کی خبر کہیں تم مجھ کو سترہ بہترہ نہ کہو ( یعنی بڑھا بہکا ہوا ) ۔ کی کی خبر تم مجھ کوسترہ نہ کو لوگوں نے کہا اللہ کی قسم تو تو وہی اپنے پرانے عشق میں پھنسا ہوا ہے۔ تفسیر - لاجِدُ رِيحَ يُوسُفَ - فلسفی طبع لوگ اس کے معنے کرتے ہیں کہ یعقوب نے کہا۔ میں یوسف کی حکومت کے آثار پاتا ہوں ۔ صوفیاء نے لکھا ہے اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے بعض حواس میں غیر معمولی ترقی بخش دیتا ہے۔ یہ لوگ زیادہ تجربہ کار اور اس کوچے کے واقف ہیں۔ انہی کی بات ماننی چاہیے۔ لَوْ لَا أَنْ تُفَنِّدُونِ ۔ تفنيد - ملامت کرنا ، احمق بنانا ، خطا کار بنانا، گنہگار ٹھہرانا۔ آپ نے ڈرایا کہ ایسا نہ ہو میری تکذیب کر کے گنہگار ہو جاؤ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۶ جنوری ۱۹۱۰ء صفحه ۱۳۲) ۹۷ - فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ الْقُهُ عَلَى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا ۚ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ - ترجمہ ۔ جب آ پہنچا خوش خبری دینے والا رکھ دیا یعقوب کے سامنے کر تہ تو آنکھوں میں روشنی آگئی یعقوب نے کہا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ مجھ کو اللہ کی طرف سے بڑی بڑی باتیں معلوم ہوتی