حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 200
حقائق الفرقان ۲۰۰ سُورَة يُوسُفَ تفسیر ۔ فَقَدْ سَرَقَ اخ له ۔ یہ ان کا جھوٹ ہے جیسے پہلے بھی جھوٹ بول چکے ہیں۔ تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۶۰) فَلَمَّا اسْتَيْنَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيَّا قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ آبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُمْ مَوْثِقًا مِنَ اللهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُمْ فِي يُوسُفَ فَلَنْ اَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمُ اللهُ لِي ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحَكِمِينَ ۔ ترجمہ ۔ پھر جب وہ نا امید ہو گئے اس سے الگ ہو بیٹھے کانوں میں باتیں کرتے ۔ ان میں کا بڑا بولا کیا تم کو یاد نہیں کہ بے شک تمہارے باپ نے تم سے لیا تھا پکا اقرار اللہ کا اور اس سے پہلے تم قصور وار ہو چکے ہو یوسف کے معاملہ میں ۔ تو میں تو اس ملک کو چھوڑوں گا نہیں جب تک مجھ کو اجازت نہ دے میرا باپ یا اللہ کوئی حکم فرمادے میرے لئے اور وہی عمدہ حکم کرنے والا ہے۔ تفسیر - حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمُ اللهُ لِی ۔ اس موقع پر مجھے یہ نکتہ سوجھا ہے کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اول خدا کا نام لیتے پھر باپ کا۔ پس معلوم ہوا کہ عام آدمی کے الہامات نبی کے ماتحت ہوتے ہیں۔ اسی واسطے اول باپ کا نام لیا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۶ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۱) ۸۴ - قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِينِي بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ - ترجمہ ۔ ( بیٹوں نے جب ایسا جا کر بیان کیا تو باپ نے کہا ہاں بنالی ہے تمہارے نفسوں نے ایک بات تو خیر صبر ہی بہتر ہے۔ امید ہے کہ اللہ لے آوے گا میرے پاس ان سب کو ۔ بے شک اللہ ہی بڑا جاننے والا ہے سچی حقیقتوں کا اور بڑا حکمت والا ہے۔ تفسیر ۔ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ - صبر اچھی چیز ہے ۔ میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ یوسف اور اس کا بھائی اور سب آ جاویں گے۔ دیکھو کتنا یقین ہے خدا کی ذات پر۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۶ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۱)