حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 195 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 195

حقائق الفرقان ۱۹۵ سُورَة يُوسُفَ کے جی سے۔ انہوں نے جواب دیا حَاشَ لِلهِ ہم نے تو اس میں کچھ برائی پائی نہیں اور عزیز کی عورت بول اٹھی اب تو حق بات ظاہر ہو ہی چکی ہاں میں نے ہی اس کو پھسلایا تھا صحبت سے رکنے سے اور کچھ شک نہیں کہ وہ بڑے سچوں میں سے ہے۔ تفسير - الفن حَصْحَصَ الْحَقُّ - تَبَيَّنَ بَرَزَ - ظاہر ہو گیا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۳۰) ۵۳ - ذلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنُهُ بِالْغَيْبِ وَ أَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَابِنِيْنَ - ترجمہ۔ (یوسف فرماتے ہیں کہ یہ تحقیق میں نے اسی واسطے کرائی تا کہ جان لے وہ شخص ( جس نے مجھے اپنے گھر میں رکھا تھا کہ میں نے ہرگز خیانت نہیں کی اُس سے چھپ کر اور بے شک اللہ کامیاب نہیں کرتا خیانت کرنے والوں کی تدبیر کو۔ تفسير - ذلِكَ لِيَعْلَمَ ۔ اس لفظ کا کہنے والا کون ہے۔ بعض نے کہا کہ یوسف ۔ بعض نے کہا کہ امْرَأَةُ الْعَزیز میرا خیال یہی ہے کہ وہ عورت تھی ۔ اس نے کہا کہ میں نے سچی گواہی دی۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۳۰) ۵۴- وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ - - ترجمہ۔ میں پاک نہیں کہتا اپنے کو کیونکہ نفس تو حکم کرتا ہی رہتا ہے بدی کا مگر جس پر رحم فرمائے میرا رب ۔ کچھ شک نہیں کہ میرا رب بڑا عیبوں کا ڈھانپنے والا محنت کا بدلہ دینے والا ہے۔ تفسیر - وَمَا أُبَرِّي نَفْسِی ۔ یہ قول بھی اس عورت کا ہی ہے حضرت مرزا صاحب نے فرمایا تھا کہ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَحِيم نبی کا قول ہو سکتا ہے نہ کہ مشرکہ عورت کا۔ اس صورت میں لحد آختہ بھی یوسف کا قول ہے۔ اپنے مالک کی عدم موجودگی میں اس کی عورت کی طرف بری خواہش نہیں کی ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۶ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۳۱)