حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 194
حقائق الفرقان ۱۹۴ سُورَة يُوسُفَ جن سالوں میں بارشیں خوب ہوتی ہیں۔ بچے خوب تیرتے ہیں۔ اس لئے اس کا نام عام رکھا گیا۔ اس رکوع میں دنیا پرستوں اور غافلوں کی دوستی کو سمجھایا ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۳۰) ۵۱- وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعُ إِلَى رَبِّكَ فَسْئَلُهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الَّتِي قَطَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ - ترجمہ۔ (یہ تعبیر ساقی نے بادشاہ کو سنائی ) اور بادشاہ نے کہا اس کو لاؤ میرے پاس (یعنی یوسف ) کو جب یوسف کے پاس قاصد آیا تو یوسف نے کہا پلٹ جا تیرے بادشاہ کے پاس اور اس سے پوچھ کیا حال ہے ان عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے کچھ شک نہیں کہ میرا رب ہی ان کی تدبیر سے بخوبی واقف ہے۔ تفسیر انتونی ہے ۔ اس دفعہ حضرت یوسف نے خدا پر تو گل رکھا۔ اپنے متعلق کچھ نہیں کہا۔ جلد خلاصی ہوئی۔ إلى رَبِّكَ ۔ اپنے مالک کے پاس۔ گید - تدابیر جنگ ۔ حضرت یوسف نے ایسا کیوں کیا۔ مصلح بننے والے تھے ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اپنا پیشہ بنانا تھا۔ اس واسطے الزام کو دور کرنا ضرور سمجھا ۔ بدنام کی نصیحت کا اثر نہیں ہوتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اعتکاف میں تھے۔ ایک بیوی مسجد میں آگئیں ۔ دوسروں کو نقاب اتار کر دکھایا تاکسی کو وسوسہ نہ ہو۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۳۰) ۵۲- قَالَ مَا خَطْبُكُنَ إِذْ رَا وَدُتُّنَ يُوسُفَ عَنْ نَّفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِيْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْفَنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَّفْسِهِ وَ إِنَّهُ لَمِنَ الصُّدِقِينَ - ترجمہ ۔ بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا تمہاری حقیقت حال کیا ہے جب تم نے پھیلایا تھا یوسف کو اس