حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 187
حقائق الفرقان ۱۸۷ سُورَة يُوسُفَ تفسیر السجن ۔ سجن کے معنے جبس مراد لے لیتے ہیں۔ قید خانہ یا محبس ۔ احب إلى ۔ حضرت یوسف نے تو کہا مجھے قید پسند ہے۔ مگر ہمارے نبی کریم نے کبھی ایسا لفظ نہیں بولا ۔ آپ ہمیشہ عفو ہی مانگتے رہے إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ ۔ انسان کو نہیں چاہیے کہا۔ لئے مصیبت مانگے ۔ اپنے (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۳۰) ۳۷۔ وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيْنِ قَالَ أَحَدُهُمَا إِنِّي أَرْنِي أَعْصِرُ خَمْرًا ۚ وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّي أَرْنِي أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِي خُبْزًا تَأْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ نَبِثْنَا بتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرَانَكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ۔ ترجمہ۔ اور یوسف کے ساتھ قید خانہ میں دو جوان اور داخل ہوئے اُن میں سے ایک نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو شراب نچوڑتا ہوا اور دوسرے نے کہا میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھا رہا ہوں کھاتے ہیں اس میں سے جانور ۔اے یوسف ! اس کی تعبیر ہم کو بتاؤ ہم تمہیں دیکھتے ہیں اللہ کو دیکھنے والوں میں سے ۔ تفسیر - وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ ہر بلا کیں قوم راحق داده است ه زیر آن گنج کرم بنهاده است که حضرت موسی کو ایک طرف تو بادشاہ کے گھر میں پرورش کرایا۔ تا کہ در بار بادشاہی کو دیکھ بھال لے اور دوسری طرف ایک غریب گھر میں بھی رکھا تا زندگی کے اس حصہ کے عجائبات کو بھی دیکھ کر امیر و غریب کی اصلاح کر سکے ۔ اسی طرح حضرت یوسف کو ایک طرف باپ سے الگ کیا پھر قید خانہ ۔ الگ قیدخانہ میں ڈلوایا۔ اور دوسری طرف مصر کے بادشاہ کا مقرب بنایا۔ حضرت مجدد گوالیار کے قلعہ میں قید ہوئے تو قید خانہ سے ایک شخص کو خط لکھتے ہیں۔ ہم کو قرآن شریف یاد کرنے کیلئے موقع نہیں ملتا تھا۔ اب قرآن شریف کی یاد کے لئے خوب موقع ملے گا۔ میں تو ان کا بہت معتقد ہوں ۔ جو ان کے لے اس قوم کو جو بھی آزمائش خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے اس کے نتیجہ میں ان کے لئے فضل وکرم کا ایک بیش بہا خزانہ نازل ہوا ہے۔ (ناشر) ۲ حضرت سید احمد سرہندی مجد دالف ثانی ۔ ( ناشر )