حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 186 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 186

حقائق الفرقان ۱۸۶ سُورَة يُوسُفَ کے سامنے سے نکل تو انہوں نے جب یوسف کو دیکھا تو اُسے بزرگ پایا اور کاٹ لئے اپنے ہاتھ اور کہنے لگیں حاش للہ یہ تو بشر نہیں ہے ہو نہ ہو یہ تو کوئی بڑا ہی بزرگ فرشتہ ہے۔ تفسیر بِمَكْرِهِنَّ ۔ مکر کے معنے تدبیر کے ہیں۔ لیکن صحابہؓ ، تابعین نے اس کے معنے قَوْلَهُنَّ کے کئے ہیں۔ یعنی جب ان کا قول سنا۔ متكا - تکیہ گدیلے ۔ نمارق بعض شہروں میں دو دو سو تکیے دیتے ہیں۔ سكينا ۔ چھری۔ میوے کاٹنے کے لئے ۔ اکبر نے ۔ اس کو عظیم الشان پایا۔ قَطَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ - یہ محاورہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اظہار تعجب کیا اور تعجب سے ہاتھ منہ میں کاٹا۔ بعض نے یہ معنے کئے ہیں کہ بوجہ حیرت و رعب حُسن ولقو ہونے کی بجائے پھلوں کے اپنے ہاتھ کاٹ لئے۔ حَاشَ لِلَّهِ - اللہ پاک ہے۔ جس نے ایسا انسان پیدا کیا۔ عورت بدکار آدمی کو جلد پہچان لیتی ہے۔ دیکھتے ہی کہا۔ یہ تو کوئی فرشتہ ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۳۰) سكينا - مصری چھری کانٹے سے کھاتے۔ وو مَلَكُ كَرِيمٌ ۔ یہ تو کوئی دیوتا ہے۔ مشرک لوگوں کا دستور ہے۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۶۰) ۳۴- قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَى مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ ۚ وَ إِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُنْ مِنَ الْجِهِلِينَ - ترجمہ۔ یوسف نے کہا اے میرے رب ! مجھے تو قید خانہ ہی بہت پسند ہے اس سے جس کی طرف یہ مجھے بلا رہی ہیں اور اگر تو دفع نہ کرے گا مجھ سے ان کی تدبیر تو کہیں میں ان کے طرف مائل نہ ہو جاؤں اور جاہلوں میں سے نہ بن جاؤں ۔