حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 185
حقائق الفرقان ۱۸۵ سُورَة يُوسُفَ کوئی آرام، آسودگی کی عزت مل سکتی ہے۔ سچی عزت اور راحت مل سکتی ہے کیونکہ ارشاد الہی اس طرح پر ہے کہ ساری عزتیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اور پھر معزز ہونا رسول اور مومنین کے لئے لازمی ہے۔ بہر حال جو کچھ بھی ہو ۔ کمینہ فطرت ، کم حوصلہ انسان عاقبت اندیشی سے حصہ نہ رکھنے والا کہہ سکتا ہے کہ ان کو آرام ملتا ہے۔ مگر حضرت یوسف نے اس عزت ، اس آرام اور دولت کولات ماری اور خدا تعالیٰ کے احکام کی عزت کی ۔ قید قبول کی مگر حکم الہی کو نہ توڑا۔ نتیجہ کیا ہوا۔ وہی یوسف اسی مصر میں اسی شخص کے سامنے اس عورت کے اقرار کے موافق معزز اور راست باز ثابت ہوا۔ وہ امین ٹھہرایا گیا۔ اور جس مرتبہ پر پہنچا تم میں سے کوئی اس سے نا واقف نہیں ۔ وہ الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخہ ۱۷ رفروری ۱۹۰۴ ء صفحہ ۷ ) ٣١ - وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتْهَا عَنْ نَفْسِهِ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَابِهَا فِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ - ترجمہ ۔ اور شہر میں عورتیں کہنے لگیں کہ عزیز کی عورت اپنے جوان کو اس کی خود حفاظتی سے ہٹانا چاہتی ہے دل چیر کر یوسف کی محبت اس کے دل میں پیدا ہوگئی ہے۔ ہم تو اس کو دیکھتے ہیں کہ وہ سخت عشق میں مبتلا ہے ۔ تفسیر ۔ شَغَفَهَا حُبًّا شغف ۔ وہ چڑا جو جلد کے اوپر ہوتا ہے۔ داخل ہونا۔ جنون کی حالت تک پہنچ جانا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۳۰) ٣٢- فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَ اعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَكَا وَاتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِينَا وَ قَالَتِ اخْرُجُ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَ قَطَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هُذَا بَشَرًا إِنْ هُذَا إِلَّا مَلَكُ كَرِيمٌ - - ترجمہ۔ پھر جب عورت نے سنا ان کا طعنہ قاصد بھیجا ان کی طرف اور تیار کی ان کے لئے ایک مجلس یا تکیہ گاہ اور ان میں سے ہر ایک کو ایک چھری دی ( خربوزہ پائے شکر کھانے کو ) اور یوسف کو کہا کہ ان