حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 172 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 172

حقائق الفرقان ۱۷۲ سُورَةٌ هُودٍ ۱۱۷- فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُوا بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًا مِمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ وَ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا اتْرِفُوا فِيْهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ - ترجمہ۔ پھر کیوں نہ ہوئے ان سنگتوں میں جو تم سے پہلے ہو گزریں ایسے دانا جن میں کچھ اثر رہا ہو کہ وہ ملک میں فساد کرنے سے منع کرتے مگر تھوڑے سے تھے جن کو ہم نے بچالیا ان میں سے اور وہ لوگ چلے جو ظالم تھے وہی راہ جس میں مزہ اور آرام پایا اور وہ لوگ جناب الہی سے قطع تعلق کرنے والے تھے۔ تفسیر اُولُوا بَقِيَّةٍ ۔ جن میں نیکی کا اثر باقی ہو ۔ صاحبان عقل و شعور۔ مَا أُشْرِفُوا فِيهِ جس راہ میں کہ انہوں نے عیش و عشرت کو پایا۔ جب تک کسی قوم میں ایسے لوگ ہوں جو بدیوں سے منع کرتے رہیں اور نیکیوں کی طرف لوگوں کو بلاتے رہیں ۔ تب تک وہ قوم ہلاک ہونے سے بچی رہتی ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۲۸) ۱۱۸- وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرْرٰى بِظُلْمٍ وَ أَهْلُهَا مُصْلِحُونَ - ترجمہ۔ تیرا پروردگار ایسا تو نہیں کہ تباہ کر دے بستیوں کو ظلم کر کے حالانکہ وہاں کے لوگ نیک اور سنوار والے ہوں ۔ تفسیر - بظلم - اللہ تعالیٰ بے وجہ کوئی عذاب نہیں دیتا ۔ لوگ خیال کرتے ہیں کہ دنیا میں مصائب ایسے ہی بلا سبب آ جاتے ہیں ۔ قرآن شریف ایسا نہیں کہتا۔ بلکہ فرماتا ہے کہ جس بستی میں مصلح موجود ہوں وہاں عذاب نہیں آتا۔ (ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۲۹) ۱۲۰ - إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذلِكَ خَلَقَهُمْ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا مُلَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ - ترجمہ۔ مگر جس پر رحم فرمائے تیرا رب اور اسی لئے تو ان کو پیدا کیا ہے ( یعنی رحم کے لئے ) اور پوری ہوئی پیش گوئی تیرے رب کی کہ میں بھر دوں گا جہنم کو بڑے آدمی اور جن اور عام آدمی اور