حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 170
حقائق الفرقان ١٧٠ سُورَةٌ هُودٍ اپنے خلوص کے اظہار کے لئے جوان بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم بالجزم کر لیا۔ پھر خدا نے اس کی نسل کو کس قدر بڑھا یا کہ وہ شمار میں بھی نہیں آ سکتی ۔ اسی نسل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان رسول خاتم النبیین رسول کر کے بھیجا جو کل انبیاء علیھم السلام سے افضل ٹھہرا۔ جس کی امت میں ہزاروں ہزار اولیاء اللہ ہوئے جو بنی اسرائیل کے انبیاء کے مثیل تھے اور لاکھوں لاکھ بادشاہ ہوئے ۔ یہاں تک کہ مسیح موعود جو خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا ہے وہ بھی اسی امت میں پیدا ہوا۔ اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم نے اسے پایا اور اس کی شناخت کا موقع ہم کو دیا گیا۔ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِك ۔ یہ بدلہ، یہ جزا کس بات کی تھی ؟ اسی عظیم الشان قربانی کی جو اس نے خدا تعالیٰ کے حضور دکھائی ۔ واقعی یہ بات قابلِ غور ہے کہ ابراہیم کی عمر جب کہ سو برس کے قریب پہنچی۔ اس وقت قومی بشری رکھنے والا کیا امید اولاد کی رکھ سکتا ہے۔ پھر ۱۳ برس کی عمر کا نوجوان لڑکا جو ۸۴ برس کے بعد کا ملا ہوا ہو۔ اس کے ذبح کرنے کا اپنے ہاتھ سے ارادہ کر لینا معمولی سی بات نہیں ہے۔ جس کے لئے ہر شخص تیار ہو سکے۔ غور کرو اس ذبح کے بعد عمر کے آخری ایام ہیں اور قبر قریب ہے۔ پھر کیا باقی رہ سکتا ہے۔ نہ مکان رہا نہ عزت و جبروت۔ مگر اے ابراہیمؑ تجھ پر خدا کا سلام تو نے خدا ت ، خدا تعالیٰ کے ایک اشارہ اور ایماء پر سارے ارادوں اور ساری خوشیوں ، خواہشوں کو قربان کر دیا۔ اور اس کے بدلے میں تو نے وہ پایا جو کسی نے نہیں پایا۔ خاتم النبیین اسی اسمائیل کی نسل میں ہوا۔ اور خاتم الخلفاء اسی خاتم النبیین کی امت میں اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ پھر ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وہ صدق اور اخلاص کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہوا أَسْلِمُ قَالَ اسلمت اے ابراہیم ! تو فرماں بردار ہو چکا۔ عرض کیا۔ حضور میں تو فرماں بردار ہو چکا۔ اسلم نہیں کہا اسْلَمْتُ کہا۔ یعنی اپنا ارادہ رکھا ہی نہیں ۔ معا حکم الہی کے ساتھ ہی تعمیل ہوگئی۔ پھر اس اخلاص سے کیا بدلہ پایا یہی کہ ابوالملتہ ٹھہرا۔ جو کچھ چھوڑا اس سے بڑھ کر ملا ۔ اسی طرح پر سید الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے حالات پر غور کرو۔ اہلِ مکہ نے کہا کہ اگر آپ کو