حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 165
حقائق الفرقان ۱۶۵ سُورَةٌ هُودٍ الَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ - اس کی بابت بہت بحث ہے کہ مَا شَاء رَبُّكَ سے کیا مراد ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ دنیا کی زندگی میں جو آسائش پہنچ جاتی ہے اس کا استثناء مراد ہے۔ بعض نے اس فاصلہ کو اور وسیع کیا ہے کہ قبر سے حشر تک ۔ بعض نے اور بھی وسیع کیا ہے اور کہا ہے کہ حشر کے فیصلہ تک ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ آخر دوزخ سے سب نکالے جاویں گے۔ میرے نزدیک اس سے اظہارِ عظمت و جبروت مراد ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے۔ مشیت الہی کے ماتحت ہوتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۲۸) ١١٠ - فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هَؤُلَاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ إِنَّا لَمُوَفُوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ - ترجمہ ۔ ۔ تو اے مخاطب ! تو شک میں نہ پڑ ان چیزوں سے جن کو پوجتے ہیں یہ لوگ ۔ یہ تو یوں ہی واہیات پوجتے ہیں کیونکہ (یا جیسا کہ ) پوجتے رہے ان کے باپ دادا پہلے سے اور ہم ان کو پورا پورا دینے والے ہیں ان کا حصہ بے کمی کئے۔ تفسير - فلاتك ۔ یہ خطاب عام ہے۔ ہر مخاطب قرآن سے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۹ صفحه (۱۲۸) ١١٣ - فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا یدرودر تعملون بَصِيرٌ بصير - ترجمہ ۔ تو مضبوط جمارہ کی استقامت پر جیسا تجھ کو حکم ہو چکا ہے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے تیرے ساتھ رجوع بحق کیا اور تم حد سے نہ بڑھنا کیونکہ اللہ تمہارے اعمالوں کو دیکھ رہا ہے۔ تفسیر ۔ فَاسْتَقِم - حضرت نبی کریم نے فرمایا ہے کہ شَیبَتني هود کہتے ہیں۔ اسی آیت کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ ہر ایک استاد کو اپنی جماعت ۔ مرشد کو اپنے مریدوں کا سخت فکر ہوتا ہے یہاں نبی کریم کو استقامت کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی مَنْ تَابَ مَعَكَ - انسان کو اپنی ذات کی ذمہ داری مشکل ہے چہ جائیکہ دوسروں چہ جائیکہ دوسروں کا ذمہ اٹھانا ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرماتے