حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 164
حقائق الفرقان ۱۶۴ ١٠٧ - فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَ شَهِيقٌ - سُورَةٌ هُودٍ ترجمہ ۔۔ تو جو لوگ بد بخت ہیں تو وہ آگ میں ہوں گے جلتے بھنتے اور ان کا وہاں شور وغل ہوگا ۔ تفسیر فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا ۔ جو اپنے مطالب میں کامیاب نہ ہو۔ نا کام نامراد ۔ اسے عربی زبان میں شقی کہتے ہیں۔ ۱۰۹ - وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خُلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَوَاتُ وَ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۲۸) ردود الْأَرْضُ الَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاء غَيْرَ مَعْ مجدود - ترجمہ ۔ اور جو لوگ نیک بخت ہیں وہ جنت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین رہیں مگر جو چاہے تیرا رب یہ بخشش ہے غیر منقطع بے انتہا ۔ تفسیر - مَا دَامَتِ السَّماتُ وَالْأَرْضُ - جب تک (وہ) آسمان و زمین قائم ہیں۔ یعنی مومن بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں رہیں گے۔ جب تک آسمان وزمین قائم ہیں۔ عربی زبان میں الف لام خصوصیت کا نشان ہے۔ اردو فارسی میں معرفی اور نکرے میں امتیاز کرنے کیلئے کوئی نشان نہیں ۔ پس السَّماتُ وَالْأَرْضُ میں سموت اور ارض کے اول میں الف لام تخصیص کا اظہار کرتا ہے اور مقصود اس تخصیص سے وہ خاص آسمان وزمین مراد ہیں جو اس : و اس عالم آخرت کے منا مناسب اور اس مقام کی صورت طبعی کے اقتضاء کے موافق ہوں گے۔ غرض بہشت اور دوزخ میں خاص آسمان اور زمینیں ہوں گی اور موجودہ آسمان و زمین اپنی حالت سے بدل جائیں گے۔ نافہم عیسائی اپنی کتب مسلمہ سے بے خبر اسی عدم امتیاز کے باعث ایسی فاحش غلطیوں میں پڑتے اور بیابانِ ضلالت میں ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ اناجیل کا بھی یہی منشاء ہے۔ جہاں لکھا ہے۔ اور کہ تم خدا کے اس دن کے آنے کے منتظر ہو جس میں آسمان جل کر گداز ہو جاویں گے۔ پر ہم نئے آسمان اور نئی زمین کی جن میں راست بازی بستی ہے اس کے وعدے کے موافق انتظاری 66 کرتے ہیں ۔ (۲ پطرس ۳ باب ) ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول - صفحه ۱۴۱) مَا دَامَتِ السَّمَاتُ وَالْأَرْضُ - کہاں کا آسمان وزمین؟ وہاں ( جنت ) کا ۔