حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 154
حقائق الفرقان کہ اس کے خلاف نہ ہوگا۔ اولد سُورَةٌ هُودٍ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۲۷) ۶۸ - وَ اَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةٌ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جِثِينَ - ترجمہ۔ اور ظالموں کو آلیا عذاب نے تو وہ رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ۔ تفسیر - الصَّيْحَةُ - جیسے ایک مصرع - صَاحَ الزَّمَانُ بِآلِ - جنین ۔ زمین کے ساتھ لگے رہے۔ مرغی زمین کرید کر اس پر اپنا سینہ رکھ دیتی ہے۔ اسے جشم کہتے ہیں ۔ چنانچہ مشہور ہے جَتَمَ الطَّائِرُ ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۱۲۷) ٦٩ - كَانْ لَّمْ يَغْنُوا فِيهَا اَلَّا إِنَّ ثَمُودَا كَفَرُوا رَبَّهُمُ - أَلَا بُعدًا الثَمُودَ - ترجمہ۔ گویا وہ وہاں تھے ہی نہیں ۔ سن رکھو قوم ثمود اپنے رب کی منکر ہوئی ۔ خبردار ہو قوم ثمود کو دوری ہے رحمت سے۔ تفسیر - كَانْ لَمْ يَغْنُوا فِيهَا ۔ گویا ان کا معنی ہی کوئی نہ تھا۔ معنی کہتے ہیں آبادی کو۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۲۷) ۷۰- وَلَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى قَالُوا سَلَمَا قَالَ سَلَامٌ فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيدٍ - ترجمہ ۔ اور آئے ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر بولے سلام ۔ اس نے جواب دیا سلام، پھر دیر نہ کی کہ لے آیا بچھڑا تلا ہوا ۔ تفسیر- قَالُوا سَلما کہتے ہیں سَلَامًا سے سَلام بڑھ کر ہے۔ سلاما کے پہلے کوئی فعل ہے جو اوقات سے متعلق ہے۔ یعنی ماضی یا حال یا استقبال کا۔ بہر حال دوام نہیں ۔ مگر سلام میں زمانہ کوئی نہیں ۔ اس میں دوام پایا جاتا ہے۔ گویا ابراہیم نے ان سے بہتر جواب دیا۔ حسب آيت إِذَا حَيْيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا (النساء: ۸۷)۔ 1 لے اور جب کوئی تم کو دعا دے اور تواضع کرے یا سلام کرے کسی طرح پر ، تو تم اُس کو اُس سے بہتر دعا دو، تواضع بہتر کرو اور سلام کرو۔