حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 149 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 149

حقائق الفرقان ۱۴۹ سُورَةٌ هُودٍ نہ ہوتا ۔ تو میری فطرت یہ گواہی دیتی ہے کہ میں یہ کہتا آئندہ ایسا نہیں کروں گا ۔ مگر حضرت نوع نے ایسا نہیں کیا ۔ بلکہ ادب سے اپنی کمزوری کا اقرار کیا ہے اور یوں کہا کہ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ اسْتَلَكَ مَا لَيْسَ لِي به علم یعنی آپ ہی توفیق دیں کہ میں ایسی دعا نہ کروں جس کا مجھے علم نہ ہو ۔ دعوی نہیں کیا کہ میں ایسا نہیں کروں گا اسی واسطے صلحاء امت نے لکھا ہے کہ تو بہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک کام چھوڑ دے۔ دوم دعا حفاظت کرے ۔ وعدہ کر لینا اچھی بات نہیں کیونکہ پھر ایسا کرے گا تو ایک گناہ اس بدی کا ، دوم گناہ وعدہ شکنی کا کیونکہ بعض انسانوں کو ایک بات کی لت ہو جاتی ہے۔ تو وہ جب موقع آ جاتا ہے بول اُٹھتے ہیں ۔ بهار تو به شکن آمد و چه چاره کنم ! دیکھو حضرت نبی کریم نے دعا کی ہے۔ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طُرْفَةً قرآن مجید مومنوں کو ادب سکھاتا ہے اور فرمایا۔ لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ (الحجرات : ٣) اور لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ (الحجرات: ۲) ۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تقسیم کردہ مالِ غنیمت کی نسبت اتنا کہا کہ اس میں انصاف ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ خالد بن ولید قتل کرنے کے لئے اٹھے ۔ آنحضرت نے روک دیا اور فرمایا کہ مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ درگزر کرو۔ مگر دیکھو گے کہ ایک قوم اس کے ذریعے پیدا ہو گی قرآن کریم جن کے حلق سے نیچے نہیں گزرے گا ۔ جمہور اہل اسلام کا مذہب ہے کہ حضرت علی نے ایسے لوگوں کو قتل فرمایا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر بڑے الزام لگائے گئے ۔ عبداللہ بن سلام نے سمجھایا کہ تم یہ جرات و بے ادبی نہ کرو ورنہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت تک تلوار مسلمانوں سے نہ اُٹھے گی قتل کرنے والا نہ مانا۔ تو اس کا نتیجہ بھگتا۔ مکہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے آئے ۔ معمولی بات تھی مگر اس کا نتیجہ دیکھنے والوں نے اے تو بہ شکن بہار آ گئی ہے میں اس کا کیا علاج کروں؟ ۲ (اے اللہ!) میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں پس تو مجھے ایک لحظہ کے لئے بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا۔ سے اونچی اور برابر نہ ہو تمہاری آواز نبی کی آواز سے اور مقابلہ نہ کرو۔ کے اے ایماندارو! اللہ اور رسول اللہ کے آگے کوئی بات بڑھ کر نہ کہو ۔ پیش دستی نہ کرو۔