حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 145
حقائق الفرقان ۱۴۵ سُورَةٌ هُودٍ مقابلہ کا کیا نتیجہ ہوا۔ اسی طرح پر فرعون نے موسیٰ کی تبلیغ سن کر کہا قَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ ۔ اس کی قوم تو ہماری ۔ ا غلام رہی ہے ۔ هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ (الزخرف:۵۳) یہ کمینہ ہے اور بولنے کی اس کو مقدرت نہیں۔ اور ایسا کہا کہ اگر خدا کی طرف سے آیا ہے تو کیوں اس کو سونے کے کڑے اور خلعت اپنی سرکار سے نہیں ملا۔ غرض یہ لوگ اسی قسم کے اعتراض کرتے جاتے ہیں۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۲ء صفحه ۶) ۴۱۔ حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَ أَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ آمَنَ وَ مَا أَمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ - ترجمہ ۔ یہاں تک کہ آ پہنچا ہمارا حکم اور جوش مارا تنور نے ( قہر الہی سے ) ہم نے کہا چڑھا لے کشتی میں ہر ایک قسم کے دو دو جوڑے اور تیرے گھر والوں کو مگر جس کے لئے ممانعت کی پیش گوئی ہو چکی ہے پہلے سے اس کو مت بٹھانا اور ایمانداروں کو بٹھانا اور اس پر ایمان تھوڑے ہی لوگ لائے تفسیر ۔ وَفَارَ التَّنُورُ ۔ اس کے پانچ معنے ؟ معنے ہیں۔ (۱) تنور کے معنے معنی وجه الارض زمین کا او پر لا حصہ ۔ (۲) اونچی جگہ یعنی اونچی جگہوں کے چشمے پھوٹ نکلے۔ (۳) اس گڑھے کو کہتے ہیں جس میں لوگ روٹیاں پکاتے ہیں۔ یعنی وہاں بھی پانی بہہ نکلا۔ (۴) پو پھٹنے کا وقت آ گیا نوح کی قوم پر۔ عذاب سحری کو آیا تھا۔ (۵) اونچے محلوں پر پانی حملہ آور ہوا۔ الا قليل ۔ بہت روایتوں میں میں نے پڑھا ہے کہ ۸۰ سے زیادہ نہ تھے۔ یہ مثال یاد رکھنے کے قابل ہے۔ یہاں ایک واقعہ مجھے یاد آ گیا ہے جو تمہارے نفع کے لئے تمہیں سناتا ہوں ۔ سفر میں ایک شخص نے حضرت کے متعلق مجھ سے تین سوال کئے ۔ ایک ان میں سے اس سبق کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ وہ یہ کہ ایک جگہ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ میں عمل الترب کے ذریعے بیماروں کے اچھا کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتا ۔ ورنہ مسیح ۔ کرتا ۔ ورنہ چچ سے بڑھ جاؤں۔ ں ۔ دوسرا یہ عمل تو کفار بھی کر لیتے ہیں۔ ان دونوں میں