حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 137
حقائق الفرقان ۱۳۷ سُورَةٌ هُودٍ وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَ كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَ لَئِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَّبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ - ترجمہ۔ وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا چھ وقت میں اور وہ پانی جس پر زندگی کا مدار ہے اس پر بھی اللہ ہی کا عرش ہے یعنی حکومت تا کہ تم کو انعام دے ، دیکھیں کہ کون تم میں بہت اچھے عمل کرتا ہے اور اگر تو کہے کہ تم سب کھڑے کئے جاؤ گے میرے پیچھے تو کافر ضرور کہیں گے یہ دلربا پاتیں قوم سے صاف کٹوا دینے والی ہیں۔ تفسير - في سِتَّةِ أَيَّامٍ ۔ ہر چیز جو کمال کو حاصل کرتی ہے۔ چھ مراتب کو طے کر کے۔ فرماتا ہے کہ آسمان وزمین کو پیدا کیا اور پھر اسے کمال تک پہنچایا۔ - (ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبرے مورخہ ۹ ۱ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحہ ۱۲۴) ١٠ - وَلَئِنْ آذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعُنُهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَتُوسُ كَفُورٌ - ترجمہ ۔ اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت اور رحمت چکھائیں پھر وہ نعمت اور رحمت اس سے چھین لیں تو وہ اسی وقت نا امید و نا شکر ابن جاتا ہے۔ تفسیر ۔ وَلَئِنْ آذَقْنَا الْإِنْسَانَ ۔ جو لوگ خدا کی کتاب اور خاتم النبیین کے حالات و تعلیمات سے نا واقف ہیں ان کی یہ حالت ہوتی ہے۔ دنیا میں کبھی خوشی آتی ہے اور کبھی نمی اور کبھی صحت ہوتی ہے اور کبھی بیماری اور کبھی دکھ اور کبھی سکھ۔ انسان پر یہ دونوں حالات ضرور ہوتے ہیں۔ مگر ایک نبیوں کے متبع ہوتے ہیں۔ ایک جو ان کی تعلیمات کی پرواہ نہیں کرتے ۔ یہاں آخر الذکر کا ذکر ہے۔ ليوس كَفُور - بے ایمان انسان نا امید ہو جاتا۔ امید ہو جاتا ہے۔ مگر نبیوں کے متبع کی نسبت مثنوی میں آیا ہے ۔ زیر او گنج کرم بنهاده است ! ہر بلاکین قوم راحق داده است ایک بیوی کا خاوند فوت ہو گیا اور اس کے دل میں خیال آیا کہ اب اس کی مثل کون ہوگا ۔ مگر معاً اس ہوگا۔ لے حق کے راستہ میں جو آزمائش بھی کسی قوم پر آتی ہے اس کے نیچے خدا تعالیٰ کے بے شمار کرم واحسانات کا خزانہ مخفی ہوتا ہے۔