حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 123 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 123

حقائق الفرقان ۱۲۳ سُورَة يُونُسَ تفسیر ۔ کئی ایک تاریخوں میں میں نے پڑھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن دنوں میں مکہ میں بود و باش رکھتے تھے۔ آپ نے مخالفین کی ایذاء رسانی کے مقابلہ میں کچھ نہ کیا۔ مگر مدینہ جاتے ہی جب جتھا ہو گیا تو لڑائی شروع کر دی ۔ یہ بالکل غلط ہے کہ نبی جتھے کے منتظر رہتے ہیں ۔ تین طرح سے اس کی تردید ہو گی ۔ ایک جگہ فرمایا۔ لا تكلف إِلَّا نَفْسَكَ (النساء:۸۵) اور مومنوں کے دید ہوگی۔ اک فرمایا لا الا نفسك لئے صرف حَرْضِ الْمُؤْمِنِينَ (النساء: ۸۵) فرمایا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سایہ عاطفت میں بارہ ہزار سپاہ تھی ۔ جب آپ غزوہ حنین کو جا رہے تھے کسی کو خیال اٹھا کہ اب ہم اتنے ہزار ہیں ہمارا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔ وہاں آیتیں نازل ہوئیں ۔ وَيَوْمَ حُنَيْنِ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كثرتكم (التوبة: ۲۵) چنانچہ یہ کہنا تھا کہ ہوازن کے سو آدمیوں نے شکست دی اور اس وقت صحابہ کی یہ حالت ہوئی ۔ وَ ضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحْبَتْ (التوبة: ۲۵) بھاگنے کی بھی جگہ نہ رہی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک خچر پر سوار تھے۔ جب دیکھا کہ لوگ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہے ہیں تو حارث کو کہا کہ باگ موڑ دو اور ایسے خطرے کے وقت میں فرمایا۔ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ انَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ ۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کو جتھے کی پرواہ نہ تھی ۔ تیسری بات والله يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة : ۶۸ ) کا نزول ہے جس پر آپ نے پہرہ دینے سے منع کر دیا۔ ایسا ہی اس رکوع میں حضرت نوح کے حالات پر غور کرو کہ اکیلا شخص پکارتا ہے فَاجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَ ا صرف تجھی کو تکلیف دی جاتی ہے ۔ ۲ اور ایمان داروں کو بہت ترغیب دے ۔ ے ۔ حنین کے دن جب تم کو تعجب میں ڈال دیا تھا تمہاری کثرت نے ۔ اور تم پر تنگ ہو گئی زمین با وجود اپنی کشادگی کے ۔ ۵ میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔ ۔ اللہ تیری حفاظت کرے گا لوگوں سے ۔