حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 122 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 122

حقائق الفرقان ۱۲۲ سُورَة يُونُسَ مسیح علیہ السلام کو خدائے مجسم ماننے والوں نے دو دعوے کئے ہیں ۔ اول یہ کہ مسیح خدا تھے اور دوم یہ کہ مسیح انسان تھے ۔ کیا معنے؟ مسیح جامع الوہیت و انسانیت تھے ۔ مسیح کا انسان ہونا تو حسب نشان آیت اولی و ثانیہ امر مسلم ہے کیونکہ مسیح بھی رسولوں میں سے ایک رسول تھے ۔ اگر انہوں نے معجزے دکھائے تو اسی قسم کے نشانات حضرت موسی اور ایلیا اور الیشع وغیرہ نے بھی دکھلائے۔ مسیح کی ما تھی اور وہ دونوں کھاتے پیتے تھے۔ ہاں خدا ہونے کی دلیل چاہیے۔ قرآن نے بھی کہا ہے۔ تمہارے پاس کوئی دلیل مسیح کے خدا ہونے پر نہیں تو پھر کیوں مدعی الوہیت مسیح ہوئے ہو؟ چنانچہ آیت بالا کے مضمون سے واضح ہے۔ ابطال الوہیت مسیح ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۳۶، ۳۷) ٧٠ - قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ - ترجمہ۔ کہہ دے جو بہتان باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹا (کبھی) وہ نہال و با مراد نہ ہوں گے۔ تفسیر - إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ ۔ یہ سب سے اعلیٰ معیار صداقت ہے کہ مفتری کامیابی کا منہ نہیں دیکھتا ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبرے مورخہ ۱۹ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۱۲۲) ۷۲- وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَا نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَّقَاهِي وَ تَذْكِيرِى بِأَيْتِ اللهِ فَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَاجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَ شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمُرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَى وَلَا تُنْظِرُونَ - ترجمہ ۔ پڑھ کر سنا دے ان کو نوح کی خبر جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اگر تم کو بھاری معلوم ہوتا ہے میرا رہنا ، میرا درجہ، میرا وعظ اور کہنا اور سمجھانا اللہ کی آیات کو تو میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر لیا تو تم بڑی بڑی کمیٹیاں کرو اپنے ساتھ والوں کو ملا ملا کر اور کھل کر پھر تمہاری رائے تم پر مخفی نہ رہے پھر سب کے سب ٹوٹ پڑو مجھ پر اور ایسے وقت تم مجھے مہلت بھی نہ دو۔